دولت ِ تسکین، دولت ِ حُسن کی طرح عطائے رحمانی ہے۔ اِس کا کوئی فارمولا نہیں۔ سکونِ قلب، جیساکہ نام سے ظاہر ہے، قلب کی ایک حالت ہے، ایسی حالت جس میں اِضطراب نہ ہو۔ سکون کی ضد اِضطراب ہے۔
اضطراب خواہش سے پیدا ہوتا ہے۔ کسی چیز کو حاصل کرنے کی خواہش یا کسی شے سے نجات کی خواہش ہی باعث ِ بے قراری ہے۔ خواہشِ دُنیا ہو یا خواہشِ عقبیٰ، اِنسان کو ضرور بے چین کرے گی۔ یاد رہے کہ سکون کی خواہش بذاتِ خود ایک اضطراب ہے۔
سکون خواہش سے نہیں، نصیب سے ملتا ہے۔
جسے سکونِ قلب حاصل ہو جائے، اُس کی زندگی میں نہ شکوہ رہتا ہے، نہ تقاضا۔ وہ نہ خدا کا گلہ مخلوق کے سامنے کرتا ہے، نہ مخلوق کی شکایت خدا کے سامنے۔ وہ نہ زندگی سے غافل ہوتا ہے، نہ موت سے۔ وہ ہر حال میں راضی رہتا ہے۔ پُر سکون اِنسان مقامِ صبر کو بھی مقامِ شکربنا دیتا ہے۔
آج کے دَور میں سکونِ قلب اِس لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ زندگی کے تقاضوں اور مذہب کے تقاضوں میں فرق آ گیا ہے۔ زمین کا مسافر سمجھ نہیں سکتا کہ آسمان سے احکام کیوں نازل ہوتے ہیں۔ زندگی کی مسرّتوں میں عاقبت کا خوف سکون سے محروم کر دیتا ہے۔ آج کے اِنسان کی شخصیت میں فشار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکون نہیں ملتا۔
سکون کی خاطر سفر کرنے والا سکون حاصل نہیں کر سکتا۔ سفر میں سکون کہاں؟ سکون کی تلاش اپنے حالات، اپنے ماحول اور اپنی زندگی سے بیزاری کا اعلان ہے۔