اِنسان کی زندگی خواہ کتنی ہی آزاد اور لا تعلق ہو،پابند اورمتعلق رہتی ہے۔ اِنسان دوڑتا ہے،لیکن فاصلوں کی حدود میں۔ اِنسان اُڑتا ہے،لیکن خلا کی پہنائیوں کے اندر—  وہ ارض وسماوات کے اندر ہی رہتا ہے۔ اِنسان جب کسی طاقت کو نہیں مانتا،وہ اُس وقت بھی اپنے انکار کی طاقت کے ماتحت ہوتا ہے۔ اِنسان کی خوشیاں،تمام تر  مسرّتیں کسی نہ کسی غم کی زَد میں ہوتی ہیں۔ ہرغم خوشی بن کر آتا ہے اور ہر خوشی غم بن کر رُخصت ہو جاتی ہے۔ بس خوشیوں نے رُخصت ضرور ہونا ہے۔ پیاری پیاری،اپنی بیٹیوں کی طرح —کیا کِیا جائے!

 اِنسان شب و روز کے حصار ہی میں جکڑا  سا   ہُوا ہے۔ وہ صدیوں سے اِس جال کو توڑنا چاہتا ہے۔ زمان و مکاں توڑ کر نکل جانا چاہتا ہے۔ نکل کر کہاں جائے گا—ہم دُنیا سے بھاگ سکتے ہیں،لیکن اپنے آپ سے کون بھاگ سکتا ہے۔ اِنسان اپنے پنجے میں ہے۔ وہ خود گریز بھی ہے، خود پرست و خود مَست بھی ہے، خودگرو خودسر بھی ہے،   خودبین و خود کلام ہے، خود نگر ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ خود شکن ہے۔ اُس کے اپنے وجود میں اُس کے لیے کچھ بھی تو موجود نہیں۔ سب کچھ ہے،لیکن کچھ بھی نہیں۔

 اِنسان شایدسمجھتا نہیں کہ وہ اپنی صفات،حیات،اپنی عادات،لذّات،شہوات و حیوانیات،عبادات واعتقادات کا مرقع ہے۔ اُس پر گردشِ زمان و مکاں کے علاوہ بھی کئی گردشیں گزر جاتی ہیں۔ اُس پر روزگارِ زمانہ کے علاوہ بھی کئی زمانے آتے ہیں—موسمِ بہار کے علاوہ بھی کئی بہاریں آتی ہیں۔ اُس کے اپنے اندر کبھی پھول کھِلتے ہیں، کبھی ببول مسکراتے ہیں۔ اُس کے ساتھ ساتھ روشنی و تیرگی کے اَدوار سفر کرتے ہیں— ا ُس کا شعور،آزادی کا شعور اُس کا اپنا نہیں—  وہ اپنے ماضی سے کٹ نہیں سکتا، اپنے مستقبل سے ہٹ نہیں سکتا— اُس کا حافظہ،اُس کا تخیل اُسے آزادی کا شعور عطاکر کے اُسے پابند کر دیتے ہیں۔

 اِنسان اپنے آپ پر غور کرتا ہے۔ اُسے اپنے اندر ایک جہان نظر آتا ہے۔ وہ اپنی بینائی کو دیکھتا ہے۔ لطف اندوز ہوتا ہے نظاروں سے—لیکن وہ یہ نہیں سوچتا کہ بینائی دینے والی طاقت نے ہی نظارے پیدا کیے ہیں— اب یہی آزاد نگاہ اُنہی نظاروں کی پابندہو کر رہ جاتی ہے۔ اِنسان وہ چیز نہیں دیکھ سکتا ،جو نہیں ہے—  وہی مناظر جو صدیوں سے دیکھے جاتے رہے ہیں،وہی سیّارے و ستارے،وہی شمس و قمر،وہی مشرق و مغرب اور وہی کوہ وصحرا،قلزم و دریا،وہی بادل،وہی فضائیں،وہی ہوائیں،وہی موسم،وہی پُرانے غم اور پُرانی خوشیاں—!

Pages: 1 2