֍1֍

اِیمان ہمارے خیال کی اِصلاح کرتا ہے ۔شکوک وشبہات کی نفی کرتا ہے، وسوسوں کو دِل سے نکالتا ہے۔اِیمان ہمیں غم اور خوشی دونوں میں اللہ کے قریب رکھتا ہے ۔ہم ہر آزمائش میں پورا  اُترتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ خوشیاں دینے والا ہمیں غم کی دولت سے بھی نواز سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دولت ِ یقین سے محروم نہیں ہونے دیتا۔

֍2֍

اِسلام میں داخل ہونے کے بعد اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ وہ دوسرے مسلمانوں پر فوقیت رکھتا ہے تو   اُسے غلط سمجھیں۔ اپنی فضیلت کو فضیلت کے طور پر بیان  کرنا ہی فضیلت کی نفی ہے،اِنسان کی کم ظرفی ہے، جہالت ہے۔اصل فضیلت تو دُوسروں کو فضیلت دینے میں ہے جیسا کہ علم میں دُوسروں کو شامل کرنے کا نام علم ہے،  ورنہ علم سے دُوسروں کو مرعوب کرنا اور احساسِ کمتری میں مبتلا کرنا تو جہالت ہے۔

֍3֍

کسی اِنسان کے کم ظرف ہونے کے لیے اِتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی زبان سے اپنی تعریف کرنے پر مجبور ہو۔ دوسروں سے اپنی تعریف سننامستحسن نہیں اور اپنی زبان سے اپنی تعریف عذاب ہے۔

֍4֍

عافیت اِس بات میں نہیں کہ ہم معلوم کریں کہ کشتی میں سوراخ کون کر رہا ہے۔ عافیت اِس بات میں ہے کہ کشتی کنارے لگے۔

۩۩۩

اب کسی نبی نے دُنیا میں نہیں آنا۔ لہٰذا دِین کی تبلیغ کی عظیم ذِمّہ داری ہم سب پر ہے۔ اپنی اِصلاح کے بعد یہی اُمّت دُنیا کی اِصلاح کرے۔

۩۩۩

جس نے لوگوں کو دین کے نام پر دھوکا دیا،اُس کی عاقبت مخدوش ہے، کیونکہ عاقبت دین سے ہے اور دین میں دھوکا نہیں۔ اگردھوکا ہے تو دین نہیں۔

۩۩۩

جو شخص اِس لیے اپنی اِصلاح کر رہا ہے کہ دُنیا اُس کی تعریف و عزت کرے، اُس کی اِصلاح نہیں ہوگی۔ اپنی نیکیوں کا صِلہ دُنیا سے مانگنے والا اِنسان نیک نہیں ہو سکتا۔  ریا کار اُس عابد کو کہتے ہیں جو دُنیا کو اپنی عبادت سے مرعوب کرنا چاہے۔

۩۩۩

جب تک مخبرِ صادقﷺکی صداقت پر اعتماد نہ ہو،  ہم توحید کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

۩۩۩

اِنسان کا اصل جوہر صداقت ہے،  صداقت مصلحت اندیش نہیں ہو سکتی۔ جہاں اِظہارِ صداقت کا وقت ہو، وہاں خاموش رہنا صداقت سے محروم کر دیتا ہے۔ اُس انسان کو صادق نہیں کہا جا سکتا، جو اظہارِ صداقت میں اِبہام کاسہارا لیتا ہو۔

۩۩۩

دانا  نادانوں کی اِصلاح کرتاہے، عالم بے علم کی اور حکیم بیماروں کی۔ وہ حکیم علاج کیاکرے گا جس کو مریض سے محبّت  ہی نہ ہو۔اِسی طرح وہ مصلح جو گنہگاروں سے نفرت کرتا ہے، اُن کی اِصلاح کیا کرے گا۔ہر صفت اپنی مخالف صفت پر اَثر کرنا چاہتی ہے، لیکن نفرت سے نہیں، محبّت  سے۔

۩۩۩