اِنسان کو اُس بات پر صبر کرنے کے لیے کہا گیا ہے جو اُسے پسند نہ ہو اور جس کا ہوجا نا نا گزیر ہو۔ ہر وہ عمل جو برداشت کرنا پڑے، صبر کے ذیل میں آتا ہے۔ نا قابلِ برداشت کوئی واقعہ نہیں ہے۔ جس کو دیکھنے والے اور پڑھنے والے ناقابلِ برداشت کہتے ہیں، سانحہ ہو یا حادثہ، جس کے ساتھ پیش آرہا ہے ،وہ تو اُس میں سے گزر رہا ہے، رو کر، یا خاموش رہ کر۔
اِنسان کو صبر کی تلقین کی گئی ہے، اِس لیے کہ یہ زندگی ہماری خواہشات کے مطابق نہیں ہوتی۔ جہاں ہماری پسند کی چیز ہمیں میسّر نہ آئے، وہاں صبرکام آتا ہے۔ جہاں ہمیں ناپسند واقعات اور افراد کے ساتھ گزر کرنا پڑے، وہاں بھی صبر کام آتا ہے۔
صبرکا نام آتے ہی اذیّت کا تصوّرآتا ہے۔ ناپسندیدہ زندگی قبول کرنے کی اذیّت یا پسندیدہ زندگی ترک کرنے کی اذیّت۔ یہ اذیّت احساس کی لطافت کی نسبت سے بڑھتی اور کم ہوتی رہتی ہے۔
کوئی زندگی ایسی نہیں جو اپنی آرزو اور اپنے حاصل میں مکمل ہو، برابر ہو۔ کبھی آرزو بڑھ جاتی ہے، کبھی حاصل کم رہ جاتا ہے۔ صبر کا خیال ہی اِس بات کی دلیل ہے کہ اِنسان جو چاہتا ہے، وہ اُسے مِلا نہیں۔
اِنسان محنت کرتا ہے، کوشش کرتا ہے، مجاہدہ کرتا ہے، ریاضت اور عبادت کرتا ہے کہ زندگی اطمینان اور آرام سے گزرے اور ما بعد حیات کے بھی خطرات نہ رہیں، لیکن زندگی عجب ہے۔ اِس میں جب کوئی مقام حاصل ہوتا ہے، پسندیدہ مقام، تب بھی ہمیں احساس ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں، کچھ نہ کچھ رہ گیا ہے یا کہیں نہ کہیں، کچھ نہ کچھ غیر ضروری اور غیر مناسب شے شامل ہو گئی ہے، اِس زندگی میں۔ بس ایسی صورت میں اِنسان بے بس ہوتا ہے، صبر کے سِوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔