وہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔ عجب بات ہے کہ وہ تکلیف دُور نہیں کرتا اور برداشت کرنے والوں کے ساتھ رہتا ہے، اور تکلیف بھیجنے والا بھی خود ہے۔ بس یہی اِنسانی عظمت کا راز ہے— اِنسان کی تسلیم و رضا کا روشن باب، اِنسان کی اِنسانیت کا ارفع مقام کہ وہ سمجھ لے کہ تکلیف دینے والا ہی راحت ِ جاں ہے۔ یہ زندگی، اُس کی دی ہوئی، اُسی کے حکم کی منتظر ہے۔ وجود اُس کابنایا ہُوا، اُسی کے اَمر کے تابع ہے۔ وہ ستم کرے تو ستم ہی کرم ہے۔ وہ تکلیف بھیجے تو یہی راحت ہے۔ وہ ذات ہمارے جسم کو اذیّت سے گزارے تو بھی یہ اُس کا احسان ہے۔
صبر کرنے والے اُس مقام سے آشنا کرا دیے جاتے ہیں کہ تکلیف دینے والا ہی صبر کی توفیق دے رہا ہے، اور اس مقام پر صبر ہی شکر کا درجہ اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس کے مقرّب اذیّت سے تو گزرتے ہیں لیکن بیزاری سے کبھی نہیں گزرے۔ وہ شکر کرتے ہوئے وادئ اذیّت سے گزر جاتے ہیں۔
دُنیا دار جس مقام پر بیزار ہوتا ہے، مومن اُس مقام پر صبر کرتا ہے، اور مومن جس مقام پر صبر کرتا ہے، مقرّب اُس مقام پر شکر کرتا ہے کیونکہ یہی مقام وصالِ حق کا مقام ہے۔ تمام واصلینِ حق صبر کی وادیوں سے بہ تسلیم و رضا گزر کر سجدۂ شکر تک پہنچے۔ یہی اِنسان کی رِفعت ہے۔ یہی شانِ عبودیت ہے کہ اِنسان کا وجود تِیروں سے چھلنی ہو، دِل یادوں سے زخمی ہواور سرِ نیاز سجدہ میں ہو کہ اے خالق!مجھے صبر و اِستقامت کی منزلیں عطا کرنے والے!مجھے تسلیم و رضا کی معراج عطا کرنے والے! تیرا شکر ہے، لاکھ بار شکر ہے کہ تُو نے مجھے چُن لیا، اپنا بندہ بنایا، اپنا اور صرف اپنا۔ تیری طرف سے آنے والے ہر حال پر ہم راضی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم اور ہماری زندگی بے مصرف اور بے مقصد نہ رہنے دینے والا تُو ہے — جس نے ہمیں تاجِ تسلیم ورضا پہناکر اہلِ دُنیا کے لیے ہمارے صبر کا ذکر ہی باعث ِ تسکینِ رُوح ودِل بنایا۔
بیکسی کی داستان بننے والے امامِ عالی مقام ؑ بیکسوں کے لیے چارہ ساز ہیں۔ یہ داستان اہلِ علم کے لیے نہیں، یہ اہلِ نظر کا مقام ہے، اہلِ صبر کے لیے، اہلِ شکر کے لیے — اُن کے لیے جو ہر حال پر راضی رہتے ہیں۔ جن لوگوں پر اُس کا کرم ہوتا ہے، اُن کی آنکھیں تَر رہتی ہیں، اُن کے دِل گداز رہتے ہیں، اُن کی پیشانیاں سجدوں کے لیے بیتاب رہتی ہیں، اُن کے ہاں تکلیف رہتی ہے لیکن اُن کی زبان پر کلماتِ شکر رہتے ہیں۔ مقاماتِ صبر کو مقاماتِ شکر بنانا
خوش نصیبوں کا کا م ہے۔ ایسی خوش نصیبی کہ زمین والے اُن کی تکلیف پر اظہارِ غم کریں اور آسمان والے اُن پر سلام بھیجیں۔ صبر والوں کی شان نرالی ہے۔ اُن کا ایمان قوی ہے۔ اُن کے درجات بلند ہیں۔ اُن کے جسم پر پیوند کے لباس ہیں اور اُن کے دَر پر جبریل ؑ جیسے غلام ہیں۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے — ہمیشہ سے — ہمیشہ کے لیے!!