اِنسان کی زندگی فیصلہ کرنے کی اہمیت کے سبب سے اہم ہے۔  اِنسان کو عقل دی گئی،  قواء دیے گئے۔  اُس کے سامنے زندگی کی کتاب کھلی ہے۔ اُس کے سامنے کائنات جلوہ آرا ہے۔  اُس کے سامنے قوموں کا ماضی ہے،مستقبل کے اندازے اور پروگرام ہیں۔  وہ سوچ سکتا ہے،  اِس لیے وہ حق رکھتا ہے کہ فیصلہ کرے اور وہ فیصلہ کرتا ہے — مگر افسوس تو یہ ہے کہ وہ ایک فیصلہ کرنے کی بجائے فیصلے ہی کرتا رہتا ہے اور یوں لکھ لکھ کر مٹاتا ہے اور مٹا مٹا کے لکھتا ہے، اپنی قسمت کے الفاظ  —!

اِنسان کو جب بھی کوئی مشکل اور صحیح معنوں میں مشکل درپیش آئے تو وہ فیصلے کی گھڑی ہوتی ہے اور یہ گھڑی کسی وقت بھی راہ میں کھڑی ہو سکتی ہے۔ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں سے لے کر بڑے بڑے کارناموں تک فیصلوں کی مدد سے چلتے ہیں۔ فیصلوں کے دم سے عروج حاصل کرتے ہیں اور فیصلوں کے دم سے ہی زوال۔

اِنسان فیصلہ ایک لمحے میں کرتا ہے اور پھر اس فیصلے کا نتیجہ ساری عمر ساتھ ساتھ رہتا ہے،  روشنی کی طرح، کبھی آسیب کی طرح۔ ایک بار کیا گیا فیصلہ کبھی بدلا نہیں جا سکتا۔  وقت دوبارہ نہیں آتا۔  زندگی میں کوئی لمحہ دوبارہ نہیں آتا۔  فیصلے کے لمحے کہاں دہرائے جا سکتے ہیں!

دوستوں کو تحفہ دینے کا وقت آئے تو ہم فیصلے کے کرب سے دوچار رہتے ہیں۔ دِل چاہتا ہے کہ دوست کو سب سے قیمتی تحفہ پیش کیا جائے۔  اِنسان سوچتا ہے اور سوچتا ہی رہتا ہے،  اور جب فیصلہ کرتا ہے تو تحفہ دینے کا وقت گزر چکا ہوتا ہے اور یوں دوستی ختم ہونا شروع ہوتی ہے۔  دراصل دوستی میں تحائف کا تبادلہ ہی دوستی کی کمزوری ہے۔ اِس رشتے کو رشوت کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے تو بہتر ہے۔ امیر اور غریب آدمی دوستی اِس لیے نہیں کر سکتے کہ تحائف کا تبادلہ نا ممکن ہے۔  آج کل اِنسان کے پاس وقت ہی نہیں کہ وہ سوچتا رہے کہ اُسے کیا چیز کِس کو کب دینی ہے۔ اِس کام کے لیے ایکسپرٹ اِدارے موجود ہیں۔ وہ آپ کا فیصلہ کر کے آپ کو بِل دے دیں گے اور بس کام تمام ہو گیا۔

ہم لوگ فیصلہ کرنے کا شوق تو زمانۂ قدیم سے رکھتے ہیں، یعنی بچپن سے ہر آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بڑے بڑے فیصلے کرے،  اپنے فیصلے،  اور اگر اپنے نہ کر سکے تو قوموں کے فیصلے، مُلکوں کے فیصلے۔

Pages: 1 2 3 4