نفاذِ اسلام کا فیصلہ تھا، اُس کا کیا ہُوا — ؟ — نفاذِ اسلام ہو چکا ہو گا! — مارشل لاء اپنی طویل شب ِ غم گزار کے جارہا ہے — جمہوریت کا سُورج طلوع ہونے والا ہے — اِس فیصلے کا اعلان ہوچکا۔
ہم فیصلوں والی قوم بنتے جا رہے ہیں، بہت بڑے فیصلے، بہت جلد فیصلے — زیادہ فیصلے — فیصلے ہی فیصلے، اور جب عمل کا وقت آئے تو نئے فیصلے کرنے لگ جاتے ہیں۔ ہم لوگ بڑی دیر سے فیصلوں کا کھیل کھیلتے آرہے ہیں۔ ہم شاید جانتے نہیں کہ ہمارے فیصلوں کے اُوپر ایک اور فیصلہ نافذ ہو جایا کرتا ہے۔ یہ وقت کا فیصلہ ہوتا ہے اور وقت کے سامنے ہمارے سارے فیصلے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔
صاحبانِ بصیرت غور کریں کہ ہم کیا فیصلے کرتے رہتے ہیں۔ ہم سب غیر معیّن مدّت تک فیصلوں کے مقام پر نہیں رہ سکتے، اور پھر ہمارے پاس فیصلے کا نہ وقت ہوتا ہے، نہ حق — وقت اپنا فیصلہ صادر کرتا ہے، ہمارے فیصلوں پر فیصلہ — وقت کے پاس آخری اختیار ہے۔ آخری فیصلہ — دُودھ کا دُودھ اور پانی کا پانی — !
ہمیں اپنے فیصلے اللہ کے حضور پیش کرتے رہنا چاہیے تا کہ ہم بہک نہ جائیں — لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب لانے کے فیصلے کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ اُن کی اپنی زندگی کسی اور کے فیصلے کے تابع ہے۔ زندگیوں کے فیصلے کرتے کرتے اِنسان کی اپنی رُخصت کا فیصلہ سنا دیا جاتا ہے — اور پھر سب فیصلے اکارت — !!سب حاصل، لا حاصل!!