اگر آرزوئیں گھوڑے بن جائیں تو ہر احمق شہسوار کہلائے گا، لیکن آرزو گھوڑا نہیں بن سکتی۔  آرزو ایک خوبصورت تتلی ہے جس کو پکڑنے کی خواہش میں ہم نہ جانے کہاں سے کہاں نکل جاتے ہیں۔

آرزو کا دام سب سے زیادہ دلفریب اور سب سے زیادہ خطرناک ہے۔  اکثر ناکامیاں آرزو کا انعام ہیں اور اکثر انسان کشتگانِ آرزو ہیں۔  آرزو کیا ہے اور اس کا مدعا شکست ِآرزو کے علاوہ کیا ہے؟ اس پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، لیکن آج ہم آرزو اور آرزو کے حاصل کے رشتوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں۔

اگر آرزو حاصل سے بڑھ جائے،  زیادہ ہو جائے،  تو انسان دُکھی ہو جائے گا،  غریب ہو جائے گا،  افسردہ رہنا شروع کر دے گا۔  آج کا انسان اسی المیے سے گزر رہا ہے۔  خواہشات اور آرزوئیں بڑھتی جا رہی ہیں،  حاصل اور زندگی کی چادر سمٹتی جا رہی ہے اور انسان آسائشوں کی بھرمار کے باوجود کسمپرسی کی حالت محسوس کر رہا ہے۔  آج کی ترقی اور ترقی پذیری اور ترقی یافتگی نے انسان کو کثیر المقاصد بنا دیا ہے۔  وہ خواہشات اور آرزوؤں کے انبار تلے دب گیا ہے۔  آج کا انسان سسک رہا ہے، کراہ رہا ہے۔  آج کی خوشی صرف ضبط ِ غم کا شعور ہے۔  آج کا معاشرہ اجتماعی حسرتوں کا قائل ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان مسرّت کدوں میں خوش نظر آتا ہے اور غمکدوں میں تنہا ہے۔  اس کا اپنا گھر دعوتوں میں جگمگاتا ہے اور تنہائیوں میں ٹمٹماتا ہے۔

آرزو کا بے ہنگم پھیلاؤ انسانی وجود اور انسانی خون میں سرایت کر چکا ہے۔  لامحدود خواہش ہو یا حاصل، محدود زندگی کے لیے عذاب ہے۔  ہم آرام کی آرزو میں ہی بے آرام ہو رہے ہیں۔  سکون کی آرزو میں آج کا انسان مضطرب ہے،  قیام کی خواہش میں مسافر ہے۔  آرزو کے تعاقب نے انسان کو انسان سے اجنبی کر دیا ہے۔  انسان اپنے آپ سے اجنبی ہے۔  آرزو نے ہر انسان کو ایک تنہا جزیرہ بنا کر رکھ دیا ہے۔

اگر حاصل کو بڑھانے کی تمام تر کوشش ناکام ہو جائے  تو انسان اپنے آپ کو اپنی آرزو کا مقروض سمجھتا ہے،  اپنی آرزو سے شرمندہ ہوتا ہے اور یہ ندامت اس سے اعتماد چھین کر اسے اس کی اپنی نگاہ میں غیر معتبر بنا دیتی ہے اور جو انسان اپنی نگاہ میں معتبر نہ ہو،  اس پر کون اعتبار کرے گا؟

Pages: 1 2 3 4