آرزوؤں پر پہرہ، جبر، قدغن ممکن ہی نہیں۔ کوئی کسی کی خوراک کی ضرورت پوری کیے بغیر اُس سے خوراک کی آرزو چھین نہیں سکتا۔ خوراک کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اِنسان کو بڑی بڑی صفات عطا کی گئیں۔ اِنسان صبح گھر سے نکلتا ہے پرندوں کی طرح، اپنے آشیانے سے باہرتلاشِ خوراک کے لیے۔ طرح طرح کی حرکات کرتا ہے اور پھر شام کو گھر لوٹتا ہے، حسرت لے کر یا سرشاری و سرخوشی لے کر، اور اس طرح زندگی ایک دائرے میں مقیّد ہو کر رہ جاتی ہے۔ اِ س ضرورت کی خواہش کی تکمیل کو اِنسان کامیابی کہتا ہے۔ پھر ایک دن اُسے ایک نئی صورتِ حال سے تعارف ہوتا ہے اور وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ ضرورت ہی اُس کی واحد ضرورت نہیں، اُسے کچھ اور بھی چاہیے۔ اِس طرح پُرانی آرزو ایک نیا جذبہ بن کر اُبھرتی ہے اور اِنسان پھر مصروف ہو جاتاہے۔ ایک نئے انداز کے ساتھ وہی پُرانا اِنسان نئی حرکت میں نظر آتا ہے۔
مکان میں رہنے کی آرزو، اپنے ذاتی مکان کے حصول کی آرزو اِنسان کو بے چین کر دیتی ہے۔ وہ مکان بناتا ہے، کیسے کیسے جتن کرتا ہے، کہاں کہاں سے کیا کیا کچھ اِکٹھا کرتا ہے۔ اِنسان سکون کی خاطر بے سکون ہوتا ہے۔ آرام کی تمنّا میں بے آرام ہوتا ہے اور کبھی کبھی قیام گاہ کی خاطر سفر اختیار کرتا ہے۔ وطن میں خوبصورت آشیانہ بنانے کے لیے بے وطن ہونا بھی گوارا کر لیتا ہے۔ یہ آرزو بڑے رنگ دکھاتی ہے۔ عُمر پردیس میں گزر جاتی ہے اور اُمّید یہ کہ دیس میں رہائش باعزت ہو۔ پردیسی دُور سے گزرنے والے طیّاروں کو سلام کہتا ہے کہ وطن کی ہواؤں کو سلام۔
آرزو اِنسان کو کیسے کیسے دن دِکھاتی ہے، اِس کا جاننا مشکل نہیں۔ ایک بہتر مستقبل کی آرزو، حال کو بد حال کر دیتی ہے اور پھر مستقبل اِسی حال کا حصہ بن کے رہ جاتا ہے۔
اِنسان سماج میں عزّت چاہتا ہے، وقار چاہتا ہے، سرفرازی چاہتا ہے، اِسی لیے تو محنت کرتا ہے۔ اس کا مرتبہ اس کو عزّت نہ دلائے تو یہ محنت بھی رائیگاں ہو جاتی ہے۔ وہ لوگوں کو اپنے ماتحت کام کرتا دیکھ کر اپنے آپ کو اپنے قد سے بڑا سمجھنے لگ جاتا ہے، لیکن یہی لوگ جو اس کے ماتحت ہیں، اس کی عزّت اور شہرت کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں۔ اس کے پاس سماجی مقام ہوتا ہے، لیکن عزّت نہیں۔ شاید عزّت سماج پر رُعب کا نام نہیں، سماج کی خدمت کا نام ہے اور خدمت کے لیے اور طرح کی آرزو چاہیے۔ سیاست کے میدان میں ہم دیکھتے آ رہے ہیں کہ حکمرانی کی خواہش اور تخت و تاج کی آرزو کیاانجام لاتی ہے۔ یہ آرزو کہاں کہاں سے گزرتی ہے۔ عزت کی آرزو، کوئے ملامت سے بھی گزرتی ہے۔ لوگوں کو مرعوب کرنے اور متاثر کرنے کی آرزو اِنسان کو ہلاک کر دیتی ہے اور وہ نہ لوگوں کو مرعوب کر سکتا ہے، نہ متاثر۔ یہ لوگ بس عجیب لوگ ہیں۔ جہا ں یہ بے فیض فوقیت دیکھتے ہیں، بس وہیں سیخ پا ہوتے ہیں۔ ان پر احسان انھیں جتلا کر کیا جائے تو بھی یہ ناپسند کرتے ہیں۔ لوگوں کو ممنون کرنا اُن پر ظلم کرناہے۔
لوگ تواُس مالک کا بھی شکریہ ادا نہیں کرتے جو انہیں مفت بینائیا ں عطا کرتا ہے اور اُن کے دیکھنے کے لیے نظارے پیدا کرتا ہے، جو آسمانوں سے مینہ برساتا ہے اور اُس سے خوراک مہیّا کرتا ہے۔ لوگ حصولِ نعمت کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور دینے والے سے تعلق اِتنا ہی ہے کہ وہ دیتا چلا جائے اور لوگ لیتے چلے جائیں۔ وصولی کی رسید اور شکریہ کی ضرورت نہیں۔ بہرحال عطا کرنے والے کی آرزو ،عطا کرنا،اور حاصل کرنے والے کی آرزو، حاصل کرنا— اِس میں رعب کس بات کا ؟ یہی تو اِنسان اور خُدا میں فرق ہے۔ وہ دیتا ہی چلا جاتا ہے، غافلوں کو، کافروں کو، منکروں کو، بلکہ ہر ایک کو، بد و نیک کو۔ اُس کی رحمت آسمان کی طرح سب پرچھائی ہوئی ہے، لیکن اِنسان کسی کو راستہ بتائے تو ساتھ ہی اپنا تعارفی کارڈ اُس کو دیتا ہے کہ مجھے اِس پتہ پر خط لکھنا۔ خدا، خداہے اور اِنسان، اِنسان!