آج کا کالم آپ حضرات کے خطوط کے جواب میں حاضر ہے۔  نہ جانے کیا ہو گیا تھا مجھے کہ میں یکسر بدل سا گیا تھا۔  میں جب کسی شے کو دیکھتا، تو میری راہ میں بینائی حائل ہو جاتی۔  بولنا چاہتا،  تو گویائی راستہ روک لیتی کہ آخر یہ سب کیوں؟ اپنی رام کہانی دوسروں کو سنانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ جو میرے ساتھ بیت رہی ہے، اسے ظاہر ہی کیوں کیا جائے،  لیکن آپ حضرات کے خطوط اور ”نوائے وقت“ کے بروقت تقاضے سے کچھ محسوس ہوا کہ ایک دل کی بات ہر دل کی بات ہے۔  ایک قلب کا اضطراب سب قلوب کا اضطراب ہے۔  ایک انسان کی تلاش اور اس کا حاصل دوسرے انسانوں کی تلاش اور ان کے حاصل سے متعلق ہے۔  ہم خلاؤں میں نہیں رہتے اور اگر خلا میں بھی رہنے لگیں تو بھی رابطہ کنٹرول ٹاور ہی سے رہے گا۔  سب انسانوں کی آنکھوں میں یکساں آنسو ہیں اور یہی ہے رشتہ انسان کا انسانوں کے ساتھ۔  انسان بہت کچھ بیان کرتا ہے اور بہت کچھ مخفی رکھنا چاہتا ہے،  لیکن وہ اسے مخفی نہیں رکھ سکتا۔  دنیا میں کوئی راز ہمیشہ راز نہیں رہا۔  ہم مخفی رکھتے رکھتے خود ہی مخفی ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

یہ عجیب بات ہے کہ گنجِ مخفی آشکار نہ ہو تو گنج کیسے کہلائے۔  بات دعویٰ کی نہیں،  بات احساس کی ہے اور احساس کسی مزید مشاہدے کا محتاج نہیں ہوتا۔  احساس اپنا ثبوت آپ ہے۔  جب ہم وادئ اِحساس میں قدم رکھتے ہیں،  تو بس اِس سے نکلنا ہمارے بس میں نہیں رہتا۔  ہم احساس کو قابو کرتے ہیں اور احساس ہمیں قابو کر لیتا ہے۔  احساس شاید اپنی ہی آواز میں اپنا نوحہ بھی ہے اور اپنا قصیدہ بھی۔  اس آواز کو جتنا بند کرو،  یہ اتنی ہی سر بلند ہوتی ہے۔  یہ آواز ہی طلسمِ ہوشربا ہے۔  یہ آواز آہ و فغانِ نیم شب کا پیغام بھی لاتی ہے اور حرفِ رائیگاں بھی نوشت کرتی ہے۔  خاموشی میں،  رات کے سناٹوں میں یہ آواز شور مچاتی ہے۔  سینے کے اندر سے چلاّتی ہے۔  مجھے آزاد کرو۔  مجھے بولنے دو۔  میں مر گئی تو تم بھی مر جاؤ گے۔  آوازیں بند ہو جائیں تو سمجھ لیجیے کہ کوئی سانحہ گزر رہا ہے۔  آواز خاموش نہیں ہو سکتی۔  آواز ہمیشہ بولے گی  —  تنہائی میں،  محفل میں،  زندگی میں،  زندگی کے بعد —  آواز قائم رہتی ہے۔  زندگی ایک آواز سے شروع ہوتی ہے۔  حرفِ کُن ایک صدا ہے،  ایک اِذن ہے، ایک آواز ہے۔  اس آواز سے ہی آوازوں کا سفر شروع ہوا، اور یہ سفر لامتناہی ہے۔  آوازوں کو خاموش کرنے کی خواہش کچھ دیرکے لیے کامیاب ہو سکتی ہے،  لیکن پھر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ خاموشی بذاتِ خود ہی آواز بن کے رہ جاتی ہے۔  یہی وہ وقت ہوتا ہے،  جب مخفی آشکار ہوتا ہے، جب خُفتہ بیدار ہوتا ہے اور رازِ سربستہ کا اظہار ہوتا ہے۔  اِس میں کوئی اُلجھاؤ نہیں۔  سامع کا شوق ہی خاموشی کو گویائی عطا کرتا ہے۔

تو —  حضرات !میں کہہ رہا تھا کہ میں نے خاموش ہی رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور پھر یہ فیصلہ بھی پورا نہ ہوا۔  دنیا صبر کا گھونٹ بھی تو نہیں پینے دیتی۔  ہمارا آخری کالم شاید ”انتظار “ ہی تھا اور انتظار ہی قائم نہ رہ سکا۔  انتظار کو موت سے زیادہ شدید کہا گیا ہے،  اِس لیے کہ انتظار اور موت دونوں ہی فراق کو خاموش کر دیتے ہیں،  لیکن انتظار خاموش نہیں رہنے دیتا۔  انتظار وصال کی آرزو میں فراق سے گزرنے کا تجربہ ہے اور یہ تجربہ اشکوں سے تحریر ہوتا ہے۔

میں نے پہلے ہی عرض کیا ہے کہ ہم سب انتظار میں ہیں۔  اپنی محنتوں کے معاوضے اور اپنے اعمال کی عبرتیں حاصل کرنےکے لیے ہم منتظر ہیں۔  خدا وہ وقت نہ لائے کہ معاوضے عبرتیں بن جائیں۔  وقت بدلا ہوا ہے۔  زمانے کا رنگ بدل گیا ہے۔  رگوں میں خون کی گردش کی رفتار بدلی ہوئی ہے۔  مزاجِ فلک برہم ہے۔  صاحبانِ بصیرت غور کیوں نہیں کر رہے کہ جس دَور میں خواجگی بندہ پروری سے الگ ہو جائے،  وہ دَور بدنصیب کہلاتا ہے۔  اِس امانت خانے سے حاصل کی ہوئی ہر چیز ہمیں چھوڑ کر رخصت ہونا ہے اور ہم ایسا نہیں چاہتے۔  ہم بحیثیتِ قوم ایک ایسے مسافر کی طرح ہیں جس کا اثاثہ اُس کے سفر میں رکاوٹ ہے۔  وہ اثاثہ نہیں چھوڑتا اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سفر کا عزم اُس سے چھِن جاتا ہے۔  مسافر سفر نہ کرے،  تو منزل سے محرومی ہی اس کا نصیب بن کے رہ جاتی ہے۔

غالباً ہم سب مجبور ہیں اور اسی مجبوری میں ہی ہم اپنی اپنی منزل کی طرف گامزن ہیں۔  غلام کو غلامی پسند نہ ہو،  تو کوئی آقا پیدا نہیں ہو سکتا۔  غلامی خود آقا پرور ہے،  آقا ساز ہے۔  نیاز مندی ہی بے نیازی کا ثبوت ہے۔  ہم خود ہی کسی کو بلندی بخشتے ہیں اور پھر اُس سے اُس بلندی کا فیض مانگتے ہیں۔  ہم خود ہی اپنے لیے عذاب ہیں اور خود ہی اپنے لیے ثواب۔  ہم خود ہی راہی ہیں،  خود ہی رستہ،  خود ہی مسافر، خود ہی ہم سفر، خود ہی منزل اور خود ہی محرومی ٔ منزل! ہماری لب بندی سے گویائی پیداہوتی ہے اور گویائی سے لب بندی، بلکہ نظر بندی پیدا ہوتی ہے۔

Pages: 1 2