تم تو بڑے نڈر تھے۔  تم ماں باپ سے بھی نہیں ڈرتے تھے۔  تم کسی ناگہانی آفت سے کبھی خوفزدہ نہیں تھے۔  تم بڑے حوصلے والے تھے،  مگر آج —  تم اپنے سائے سے ڈر رہے ہو۔  تم اپنی اولاد سے خوفزدہ ہو۔  تمہارے بچوں نے تمھیں کس اذیّت سے گزارا ہے۔  بے خوف دل میں خوف کا پیدا ہونا عجب ہے۔  یہ بڑا انتشار ہے۔  بزرگوں سے کی گئی گستا خیوں کی سزا گستاخ بچوں کی شکل میں ملتی ہے۔  بے اَدب اور گستاخ اَولاد والدین کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔ میرے دوست! والدین کی رُوحوں سے معافی مانگو تا کہ تمہارے بچے تمہاری عاقبت اور عبرت نہ بنیں۔  جس نے والدین کا ادب کیا،  اُس کی اولاد مؤدّب ہو گی۔

آج تمہارے پاس پیسہ ہے لیکن غریبی کا ڈر بھی ہے۔ کل تک تم غریب تھے۔  تمھیں ڈر نہیں تھا۔  تم نے کبھی سوچا، یہ سب کیا ہے؟دولت جمع کرنے والا،  اُسے گِننے والا،  اُس سے محبّت کرنے والا کبھی سکھی نہیں ہو تا۔ دولت کی آرزو میں غریبی کا ڈر ہے۔  غریب کو غریب ہونے کا ڈر نہیں ہوتا۔  اُس کو اُمید ہوتی ہے کہ کبھی بھلے دن آئیں گے۔  اَمیر آدمی کو ڈر ہوتا ہے کہ کبھی بُرے دن نہ آ جائیں۔  تمہارے بزرگوں کے پاس پیسہ کم تھا،  سکون زیادہ تھا۔  تمہارے پاس پیسہ زیادہ ہے،  سکون نہیں ہے۔ شاید سکون امیر ہونے کی آرزو سے نجات پانے ہی میں ملتا ہے۔  تم نے اِس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا ہو گا کہ دولت کبھی کسی کو سکون نہیں دیتی۔  دولت کی افادیت ہی پیسے خرچ کرنے میں ہے اور خرچ کرنے سے یہ کم ہوجاتی ہے۔

 گویا دولت کی افادیت ہی اِس کے کم ہونے میں ہے۔  دولت جمع رہے تو اِس کی افادیت ہی نہیں ہے۔  دولت مند کنجوس اور بخیل ہو جاتا ہے۔  وہ دراصل کسی اور کے مال کی حفاظت پر مامور ہے اور یہ مال اُس کے لواحقین کی وراثت ہے۔ دولت کی تمنّا،  اِس کا حصول، اِس کا ارتکاز،  سب انتشار کے ابواب ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ غریب سکون میں ہو لیکن یہ ضرورہے کہ دولت مند سکون سے محروم ہوگا۔ ہمدم! اپنی کمائی،  جائز اور نا جائز کمائی،  محروم اِنسانوں تک پہنچا کر اپنے لیے سکون کا اہتمام کرو۔

اگر تمنّا حاصل سے زیادہ ہو تو اضطراب پیدا ہو گا،  انتشار ہوگا — اور اگر حاصل تمنّا سے زیادہ ہو تو سکون کا باعث بنے گا۔  کم آرزو والے اِنسان مطمئن رہتے ہیں۔

تم محبّت بھی کرتے ہو۔ اِنسانوں سے نہیں،  اشیاء سے۔ تمھیں کثرت عزیز ہے۔ تم آلائش سے،  آرائش سے، آسائش سے،  زیبائش سے اور نمائش سے محبّت کرتے ہو۔ تم فطری جذبات سے محروم ہو چکے ہو۔ تم اپنے مکان کو ہی سجاتے رہتے ہو۔ اس میں فانوس روشن کرتے ہو، اِس میں چراغاں کرتے ہو،  مگر تمہارے دِل کی دُنیا میں چراغاں نہیں ہے۔ مکان جگمگا
رہے ہیں اور دِل بجھے ہوئے ہیں۔  باہر کا چراغاں دِل کا اندھیرا دُور نہیں کر سکتا۔ یہ روشنیاں کیا ہیں، جبکہ اتنا اندھیرا ہے۔ یہ محفلیں کیا ہیں، جبکہ رُوح کے اندر تنہائی چیختی رہتی ہے۔ یہ انتشار کیا ہے؟ سب منتشر ہیں۔ ایک دوسرے کے پاس رہنے والے ایک دوسرے سے ناشناس کیوں ہیں؟ کیا کوئی کسی کو نہیں جانتا؟ کیا کوئی کسی کے دل کے قریب نہیں؟

Pages: 1 2 3