بوڑھے آدمی کو اگر کوئی چہرہ ایسا نظر آ جائے جو اُسے جوانی میں پسند تھا، منظورِ نظر تھا تو اُس کے بڑھاپے کی راکھ میں چنگاریاں پھوٹتی ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ یہ سب کیا ہے؟کیا بڑھاپا غیر وابستہ زندگی کا نام ہے؟کیا بڑھاپا تنہا رہنے کی آرزو ہے؟کیا بڑھاپا زندگی سے بیزاری یا اُس سے فرار کا نام ہے ؟کیا بڑھاپا وجود اور قواء کے مضمحل ہونے کا نام ہے؟ کیا بڑھاپا بائی پاس کے واقعات کی داستان ہے؟ بڑھاپا دراصل جوانی اور جواں فِکری سے علیحدگی کا نام ہے۔ ہم نے پہلے کہا کہ بڑھاپا عمر کے کسی حصّے کا نام نہیں، بلکہ اندازِ فِکر کا نام ہے۔ ایسے ایسے بوڑھے دیکھنے میں آتے ہیں جو جوان محفلوں میں رہنا پسند کرتے ہیں اور جوان محفلیں اُن کی موجودگی کو پسند نہیں کرتیں — عجب بات ہے!!
اِنسان کب پِیری میں داخل ہوتا ہے — کب جوانی کو الوداع کہتا ہے — جب اُس کو بیٹا کہنے والا کوئی نہ ہو — ! جب اُس کو پیار سے پکارنے والا کوئی نہ ہو — !جب اُس کو اُس کے فرائض یاد دلانے والا کوئی نہ ہو۔ دراصل بڑھاپا ہی حاصلِ ہستی ہے۔ زندگی کے اوّلیں زمانے دَوڑ دھوپ کے زمانے ہیں۔ غفلت و عجلت کے ایّام ہیں۔ جوانی ابتدائے عمل ہے اور بڑھاپا نتیجہ — بوڑھا اِنسان ایک جزیرہ ہے، تنہا سہما ہُوا۔ اُس کا انتظار کسی بڑی خبر کا انتظار ہے اور یہ بڑی خبر بُری خبر بھی ہو سکتی ہے۔
سب سے خوش قسمت بوڑھا وہ ہے جس کو ماں باپ کی دُعائیں ملی ہوں اور اُسے بیوی بچوں کا تعاون حاصل ہو — اولاد کا مؤدب ہونا ایک نعمت ہے — مؤدّب اَولاد اپنی پِیری میں اپنی اولاد کو مؤدّب پائے گی۔
سب سے زیادہ بدقسمت وہ بوڑھا ہے جس کو بڑھاپے میں گناہوں کی تمنّا ہو — جوانی میں توبہ، شیوۂ پیغمبری ہے۔ بڑھاپے میں گناہ — عذاب کے علاوہ کیا ہے!
قابلِ قدر ہے وہ بڑھاپا، جو دوسروں کے لیے نافع ہو — جو آگاہِ راز ہو اور دوسروں کو آگاہ کرنے کی کوشش کرے۔ جوانی میں اقباؔل اور تھا اور بڑھاپے میں اقباؔل اور تھا — آج جو اقباؔل ہمارے فکر میں بہار لاتا ہے، ہمارے جذبات میں گرمی پیدا کرتا ہے، ہمارے باطن میں چراغاں کرتا ہے، ہماری خودی کی دھار کو تلوار کرتا ہے، ہمیں ہماری منزلوں کی خبر دیتا ہے، وہ بڑھاپے کا اقباؔل ہے۔ جوان اقباؔل نا خوش و بیزار ہے، وہ خوشۂ گندم کو جلانے کا حکم دیتا ہے، سُلطانئ جمہور کا قائل ہے، اور بوڑھا اقباؔل دَہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا چاہتا ہے، محمدؐ سے وفا کا قائل ہے — مقصد یہ کہ زندگی ہر دَور سے گزرتی ہوئی بڑھاپے تک آتی ہے اور یہی اِس کا حاصل ہے۔ جوانی کی آنچ مدھم ہو جائے تو کیمیائے پِیری یا پِیرانہ سالی حاصل ہوتی ہے۔ یہی زندگی ہے — یہی آگہی کے ایّام ہیں، خود شناسی کے دن، خدا شناسی کے زمانے، زندگی کی معرفت کا دَور، موت کے تیقّن کا زمانہ، مابعد کی حقیقت کی جلوہ گری کا وقت، تقرّب الٰہی کی گھڑی!