لوگ حالات اور ترقی سے خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ خوشی کا تعلق حالات سے نہیں۔  خوشی ایک حالت کا نام ہے، اپنی حالت، اپنا احساس، اپنا اندازِ فکر۔  احساس کی اصلاح ہو جائے تو غم اور خوشی کی بحث ختم ہوجاتی ہے۔ دلبر، دل کے پاس نظروں کے سامنے ہو تو تختۂ دار جنّت سے کم نہیں۔ دلبر دُور ہو تو جنّت بھی جہنم۔ دلبر کی یاد سرمایہ ہے اور اُس کے کُوچہ کی گدائی بھی تاجِ شاہی سے کم نہیں — تو حاصل یہ ہُواکہ غم اور خوشی اپنے اندازِ فکر کے نام ہیں۔ نیکی کے راستے میں محرومی بھی خوشی کا باعث ہے اور گناہ کا حاصل ہو جانا بھی غم کا باعث ہے۔ دن کو لُٹنے والا اگر رات کو آرام سے سو جائے تو راہزن کے لیے دُعا کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے۔ اگر زندگی کسی اور کی خوشنودی کاباعث ہو جائے تو غم نہیں ہو گا۔ اگر خود غرضی مقصد ِ حیات ہو تو کبھی خوشی نصیب نہ ہوگی۔ خوشی اور غم موسموں کی طرح آتے جاتے رہتے ہیں۔

غم خوشی بن کر زندگی میں داخل ہوتا ہے اور خوشی غم بن کر زندگی سے نکل جاتی ہے اور پھر محروم زندگی آشنائے لذّت و کیف کرا دی جاتی ہے۔ اِسی طرح جیسے خزاں زدہ باغ ایک دن سرسبز و شاداب کر دیا جاتا ہے۔ بہار، دو خزاؤں کے درمیانی وقفہ کا نام ہے اور خزاں دو بہاروں کے درمیانی زمانے کا۔ ایک دفعہ ایک اِنسان اپنے کسی عزیز کی موت پر رو رہا تھا۔  لوگوں نے کہا: ”روتے کیوں ہو۔ اب آنسوؤں کا کیا فائدہ۔ “  اُس نے جواب دیا:”روتا اِسی بات پر ہی ہوں کہ اب رونے کا فائدہ ہی نہیں۔ “ جو شے رونے سے واپس نہیں ہوسکتی، اُس پر رونا کیا،  اور رونا ہوتا ہی اُسی شے پر ہے جو رونے سے بھی واپس نہ آئے۔

خوشی کا تعاقب کرنے والا خوشی نہیں پا سکتا۔ یہ عطا ہے مالک کی، جو اُس کی یاد اور اُس کی مقرر کی ہوئی تقدیر پر راضی رہنے سے ملتی ہے۔ ”کپل وستو“    کا راجہ خوشی حاصل نہ کر سکا،  لیکن”گیا“ کا گیانی خوشی سے سرشار ہو کر لوگوں کو خوشی کی منزل دِکھاتا رہا۔ اِسلام نے اِستقامت کو ذریعۂ مسّرت کہا ہے اور بجا کہا ہے۔ مستقل مزاج اِنسان غم اور خوشی کے حجابات سے نکلتا ہوا حقیقت کے نُور تک پہنچ جاتاہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں نہ غم ہے نہ خوشی۔ بس ایک سرشاری ہے، ایک ایسی حالت کہ جہاں نہ دولت کی خواہش ہوتی ہے نہ وجود کی تسکین کی آرزو۔ یہاں اِنسان بارگاہِ حُسن میں محوِ نظارہ ہوتا ہے —  نہ حاصل نہ محرومی، نہ غم نہ خوشی، نہ آرزو، نہ شکست ِ آرزو۔ یہ بڑی خوش نصیبی ہے۔ اپنے نصیب پر خوش رہنا چاہیے۔  اپنی کوششوں پر راضی رہنا چاہیے اور کوششوں کے انجام پر بھی راضی رہنا چاہیے۔ دوسرے اِنسانوں کے نصیب سے مقابلہ نہیں کرنا چاہیے۔

ع             جو ذرّہ جس جگہ ہے،  وہیں آفتاب ہے۔

اللہ ہمیں حقیقی خوشیاں عطا فرمائے اور حقیقی غم سے بھی آشنا کرے۔ ابدی غم اور ابدی خوشی اَزلی نصیب ہے۔

Pages: 1 2 3 4