یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ خوش نصیب کون ہے۔  کسی بڑے خوش نصیب کی زندگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہو سکتا ہے کہ خوش نصیبی کسے کہتے ہیں۔  ہمارے عقیدے اور معلومات میں پیغمبر ہی خوش نصیب ہیں۔  وہ لوگ جن کی زندگی دوسروں کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے، جن کا ذکر بھی اہلِ فکر حضرات کے لیے سکون و برکت کا باعث ہے۔

اگر ہم کسی پیغمبر کی پوری زندگی کو غور سے دیکھیں تو یہ جان کر تعجب ہو گا کہ ان کی خوش نصیبی نے کیا کیا منظر دیکھے اور کیا کیا منزلیں طے کیں۔  ایک پیغمبر بیٹے کی جدائی میں روتے روتے بینائی سے محروم ہو گئے۔  پیغمبر ہیں اور بیٹے سے جدا، اور بیٹا بھی پیغمبر۔  بیٹے کی پیغمبری کی ابتدا کنوئیں میں گرنے سے ہو تی ہے۔  خوب صورت اور خوب سیرت پیغمبر،  بھائیوں کے ناروا سلوک سے آشنا،  اور پھر بازارِ مصر ہے اور پیغمبر کو بیچا جا رہا ہے،  اور پھر الزام تراشی اور قید خانہ کی صعوبت —  معصوم ہیں لیکن مقیّد —  مصر کا مالک مصر کے قید خانے میں۔  عجب حال ہے — علم والے ہیں،  عزّت والے ہیں،  مرتبے والے،  حُسن والے  — اللہ کے اتنے قریب ہیں کہ قرآن میں آپ کے تذکرے ہیں۔  آپ کا ذکر احسن القصص ہے۔  آپ کاحُسن مثالی ہے۔  خوش نصیبی کی انتہا ہے۔

ایک اور پیغمبر، خوش نصیب پیغمبر، کم و بیش ہزار سال تک اللہ کے دین کی تبلیغ فرماتے ہیں۔  دین کی خدمت کرتے ہیں اور آخر کار اپنے بیٹے کو طوفان کی نذر ہوتے دیکھتے ہیں۔  التجا کرتے ہیں،  خدا سے التجا کہ میرا بیٹا بچا لو۔  حکمِ خدا وندی آتا ہے کہ بیٹا جب باپ کے عقیدے پر ہی نہ ہو تو کیا بیٹا!           جانے دو لہروں کے سنگ!! پیغمبر ہیں اور خوش نصیب ہیں،  اس لیے خاموش رہتے ہیں۔  نبوّت سلامت رہتی ہے اور زندگی خوش نصیبی میں کٹ جاتی ہے۔ ایک اور پیغمبر مچھلی کے پیٹ میں،  نبوّت لیے،  تقرّب لیے !! خوش نصیبی ہے لیکن مچھلی کا پیٹ بھی ہے۔

 کسی پیغمبر کو آرے میں چیر دیا جاتا ہے،  اُف نہیں کی جاتی کیونکہ اُف کرنا خوش نصیبی کے خلاف ہے۔  کتنے پیغمبروں کا ذکر کیا جائے !ایک پیغمبر —  گھر سے بے گھر  —  بادشاہِ وقت سے مقابلہ — دولت والے، بادشاہت والے،  سلطنت والے اور دبدبے والے انسان کے خلاف —  ایک پیغمبرجس کے پاس مال و زر نہیں، تخت و تاج نہیں،  بس صرف خوش نصیبی ہے۔  بادشاہ دریا کی موجوں میں غرق ہوتا ہے اور پیغمبر کو آسودۂ منزل کر دیا جاتا ہے۔ پیغمبر کا مشن پورا ہو گیا،  خوش نصیبی ہے،  بڑا نصیب ہے۔

اور پیغمبروں کے ذکر میں اُس آخری رسولؐ، عزت و شوکت والے پیارے نبی،  یعنی حضورِ اکرمؐ  کا ذکر کیسے نہ آئے،  آپؐ سے زیادہ دنیا میں کون خوش نصیب ہو سکتا ہے۔  ایک طرف اللہ اور اس کے فرشتے آپؐ پر دُرود بھیجتے ہیں،  دوسری طرف دنیا میں آپؐ  کے جاں نثار آپؐ  پر دُرود و سلام اور نعت کے ہدیے پیش کرتے ہیں۔  آپؐ  ایسے خوش نصیب ہیں کہ اپنے تو اپنے، بیگانے بھی آپؐ کو عقیدت کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔  آپؐ اتنے خوش نصیب ہیں کہ جو آپؐ  کا غلام ہو گیا،  وہ بھی خوش نصیب کر دیا گیا،  لیکن غور طلب بات ہے کہ آپؐ کی زندگی کس کس راہ سے گزری۔  آپؐ پر کیا کیا وقت آیا،  کون کون سے مراحل آئے۔  آپؐ  سلطان الانبیاء ہیں اور آپؐ پر کوڑا پھینکا گیا۔  آپؐ باعث ِ تخلیق ِ کائنات ہیں اور آپؐ پر زمین تنگ کر دی گئی۔  ہجرت پر مجبور ہو گئے۔  آپؐ نے کفّار سے پتھر کھا کر اپنے بہنے والے خون سے انہی کفّار کے لیے دُعائیں لکھیں۔  کسی پر لعنت نہ بھیجی۔  خوش نصیبی کی انتہا ہے کہ پیوند والا لباس زیب ِ تن ہے اور آسمانوں سے بلاوا آتا ہے کہ اللہ اپنے خاص بندے کو آج سیر کرائے گا،  کیا کیا نہ دکھائے گا،  کیا کیا نہ بتائے گا،  کیا کیا نہ آشکار ہو گا!! سب کچھ ہو گا۔  سب ماضی سے ملاقات ہو گی اورمستقبل کے بھی جلوے آشکار ہوں گے۔  اُمّت کے لیے دُعائیں منظور ہوں گی،  رفعتوں کی مسافت طے ہو گی،  قابَ قَوسین، بلکہ اس سے بھی آگے —  جلوہ،  جلوے کے رُوبرو ہو گا۔  آئینہ،  آئینے کے رُوبرو ہو گا۔  انسان اللہ کے قریب ترین ہو گا۔  ایسا قرب کہ نہ کبھی ہوا،  نہ کسی کو حاصل ہو گا،  لیکن لباس میں پیوند رہے گا۔  خوش نصیبی وجود کاظاہرنہیں،  وجود کا باطن ہے۔

Pages: 1 2 3