اِنسان پر بڑا دباؤ ہے۔ آج کا اِنسان بہت پریشان ہے، بڑے کرب میں مبتلا ہے۔ اِنسان کے لیے کثرت ِ اعمال کی مجبوری ہے۔ بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ زِندگی اپنی سادگی کھو چکی ہے۔ یک رنگی سے محروم ہے، ہماری زِندگی۔
سب سے بڑا المیہ تو یہ ہے کہ سفر زمین کا ہے اورحکم آسمان کا۔ پریشانی تو ہو گی۔ ہم جہاں بھی جائیں، آسمان سر پر ہی رہے گا، بلکہ سر پر سوار رہے گا۔ ہم چلتے ہیں اور چلتے چلتے رستہ رُک جاتا ہے۔ کچھ نہ کچھ، کہیں نہ کہیں ہو جاتا ہے۔ بات بنتے بنتے بگڑ جاتی ہے۔ گردشِ فلک ہمارے آڑے آتی ہے۔ ہمیں چَین نہیں لینے دیتی۔ ہمارے پیچھے پڑی ہے۔ ہمیں آسمان سے کوئی نہیں بچاتا۔
ہم مجبور ہیں۔ پہلے ماں باپ کا دبا ؤ، پھر معاشیات کے حصول کا پریشر اور پھر اَولاد کی ذِمّہ داریاں — ہم کسی مقام پر بھی تو آزاد نہیں ہیں۔ آسمان نے ہمیں محتاج بنا کے رکھ دیا ہے۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں، اور تعجب ہے کہ روشنی آسمان سے ملتی ہے۔ ہمارے اپنے پاس بجلی کی روشنی ہے، لیکن پھر یہ روشنی بھی پانی سے ملتی ہے اور پانی آسمان سے نازل ہو تا ہے۔ ہم پر ہر شے آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ مجبوری، بیماری، تنگدستی، موت، سب آسمان کی طرف سے — آسمان ہی ہم پر مجبوریوں کے پتھر برسا رہا ہے۔ ہمیں جکڑ کے رکھ دیا ہے، آسمان نے — ہمارے گرد حصار ہے، وقت کا حصار، مجبوری کا حصار، بے بسی کا حصار، بے بضاعتی کا حصار — ہم کہاں جائیں؟ ہمارے پاس اندھیرے اور اندھیر نگریاں ہیں۔
ہمارے لیے، ہمارے دَور کے لیے، کیا آسمان کے پاس اندیشوں اور مجبوریوں کے سِواکچھ نہیں؟ کیا آسمان اپنے سارے اِنعامات تقسیم کر چکا ہے؟ کیا سب ٹرافیاں جیتی جاچکی ہیں؟
ہم شعر کہیں تو ہمارے اشعار غالؔب کے متروک کلام کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے — بڑی ندامت ہے ۔ ہم ڈراما لکھیں تو اِس کی اِنتہا یہ ہے کہ شیکسپیئرکے کسی ڈرامے کی گرد ِ پا نظر آئے — آسمان کے پاس کوئی نیا تحفہ نہیں — کوئی نیا ملکہ آسمان سے نازل نہیں ہوتا — !