عبادت کے مفہوم کی وضاحت میں علامہ اقباؔل نے کیا خوبصورت اشعار فرمائے ہیں:
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
کتنا روح پرور منظر ہوگا، غزنوی و ایاز ایک ہی دربار میں یکساں حالت میں موجود ہیں۔ آقا و غلام کی تقسیم ختم ہو گئی۔ یہ عبادت کی اصل ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر منشائے عبادت آقا و غلام کی تقسیم ختم کرنا ہے، تو کتنی دیرکے لیے؟ صرف نماز میں؟ یہی عبادت کی اصل ہے، اور یہی عبادت سے محرومی ہے کہ ہم صرف نماز میں بندہ و صاحب کی تقسیم ختم کرتے ہیں اور زندگی میں یہ فرق جاری رہتا ہے۔
اگر عبادت کی حالت زندگی میں رائج ہو جائے تو عبادت کے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ غزنوی اور ایاز کی تقسیم ختم کرنےکے لیے عبادت فرض کی گئی اور ہم نے محمود اور ایاز کے درجے قائم رکھ کر عبادت ادا کی، اِس لیے عبادت کی برکت زندگی میں شامل نہ ہو سکی۔ ایک آدمی آٹے میں ملاوٹ کرتا جا رہا ہے اور عبادت بھی کرتا جا رہا ہے۔ وہ نہ تو یہ کام چھوڑتا ہے، نہ وہ، نتیجہ سامنے ہے۔ ایک انسان جھوٹا ہے اور سچا کلام سنایا جا رہا ہے۔ نتیجہ کیا ہوگا۔ متقی نہ ہو تو انسان قرآن سے فلاح نہیں پا سکتا۔ ایک کافر اگر قرآن پڑھ لے تو مومن نہیں ہو جاتا۔ تقویٰ شرط ہے، ہدایت کے لیے!