اِسی طرح استاد شاگرد،  پیر مرید اور گرو چیلے کے درمیان وعدے دوطرفہ ہوتے ہیں۔  استاد علم دینے کا وعدہ کرتا ہے اور شاگرد اَدب کرنے کا۔  اگر شاگرد اَدب چھوڑ دے تو اس کا علم سے محروم ہونا اُس کا ازلی مقدّر بن جاتا ہے۔  اِس میں استاد کا ایفائے عہد دخل ہی نہیں دے سکتا۔  مرید گستاخ ہو جائے تو سارا نظامِ طریقت ہی ختم ہو جاتا ہے۔  پیر کی نظِر التفات بھی فیض نہیں دے سکتی۔  فیض ادب کا نام ہے اور محرومی گستاخی کا نام!

انسان کو اپنے عہد پورے کرنے کا حکم ہے۔  یہی بڑے نصیب کی بات ہے کہ ہم اپنے مؤقف پر قائم رہیں۔  اپنے الفاظ کی عزت کریں۔  اپنے عہد پورے کریں۔  اگر ہم حق طلب ہیں تو ضرور رستہ ملے گا۔  حقیقت کے متلاشی مایوس نہیں ہوتے۔

ہماری زندگی وعدوں سے بھری ہوتی ہے۔  ہم ہر قدم پر ایک وعدے سے دوچار ہوتے ہیں۔  ایسا ہو گا،  ایسا کریں گے۔  ایسا ہی ہوتا ہے اور پھر اسی زندگی میں ایک وعدہ جو اکثر یاد نہیں رہتا،  موت سے ہے۔  ایک دن موت سے ملنا ہے اور وہ دن کسی دن بھی آ سکتا ہے،  اور اس طرح باقی سب وعدے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔  ہمیں زندگی سے کیے ہوئے وعدے بھی پورے کرنا ہیں اور موت سے کیے ہوئے وعدے بھی!

ہمارا وعدہ خدا کے ساتھ بھی ہے۔  کلمۂ طیّب ایک عہد ہے۔  ایک وعدہ ہے کہ ہم اللہ کے علاوہ کسی کو معبود نہیں مانیں گے اور اللہ کے محبوب ص کو ہر حال میں آخری نبی مانیں گے،  اور آپ ص کی ہر بات کو صدقِ دل سے قبول کریں گے۔  یہ وعدہ ہمارا ایمان ہے۔  زندگی کی مجبوریاں اکثر اس وعدے کو پورا کرنے کی مہلت نہیں دیتیں۔  جو لوگ اللہ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے پر استقامت سے قائم رہے، اُن پر ملائکہ نازل ہوتے ہیں۔  وہ حالات کی کمی بیشی سے اپنے وعدے کی حرمت کی حفاظت کرتے ہیں۔  یہی لوگ یقین کے چراغ روشن کرتے ہیں۔  بیمار دلوں کی شفا اِن لوگوں کے دَم سے ہے۔  اِن کا سَر تن سے جدا کر دیا جائے تو بھی اِن کی زبان سے قرآن جاری رہتا ہے۔  سلام ہو اِن کی بارگاہِ مقدّس میں!!

اللہ تعالیٰ نے بھی انسان سے وعدے کیے ہوئے ہیں۔  نیک اعمال والوں کے لیے جنّت کی بشارت ہے اور بد اعمال لوگوں کو دوزخ میں لے جا کر کہا جائے گا کہ ”یہ ہے وہ جہنّم جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ “

Pages: 1 2 3 4