کہنے کو دو قدم کا فاصلہ ہے لیکن عمر کٹ جاتی ہے،  فاصلہ نہیں کٹتا۔  ہم چل رہے ہیں،  مسلسل۔  صبح کو چلتے ہیں،  شام کو چلتے ہیں،  خوابوں میں سفر کرتے ہیں۔  ہم ہی کیا،  ہمارے ساتھ راستے بھی سفر میں ہیں۔  منزل ملے،  تو منزل سفر میں ہوتی ہے۔  یہ کائنات بھی مسافر ہے۔
ہر شے راہی ہے۔ ہر شے سفر میں ہے —  نا معلوم سفر،  بے خبر مسافر،  ناآشنا منزلیں!

کوئی وجود ہمیشہ ایک جگہ موجود نہیں رہ سکتا۔  سفر ہی سفر ہے۔  سفر کا آغاز سفر سے ہوا اور سفر کا انجام ایک نئے سفر سے ہو گا۔  مسافرت بے بس ہے،  مسافت کے سامنے۔

صدیوں اور قرنوں سے یہ سفر جاری ہے۔  یہ سفر کٹ نہیں سکتا،  جیسے کسی کی نگاہ سے گر کر رسائی کاسفر طے نہیں ہو سکتا،  کبھی نہیں۔  یہ سفر بے جہت و بے سمت ہے،  بلکہ لامحدود جہت اور لا محدود سمت کا سفر ہے،  کیسے کٹے !!

ہمارے ساتھ کائنات چل رہی ہے۔  سورج،  چاند،  ستارے،  سیّارے،  کہکشائیں،  نظام ہائے شمسی بلکہ خلائیں اِس سفر میں شریک ہیں۔ سب کے سب گردش میں ہیں — جمیل و جسیم سیّارے  —  مدار خود متحرک ہیں۔  گردش در گردش،  حرکت در حرکت،  سفر در سفر جاری ہے۔  لمحات سفر میں ہیں۔  وقت ہمہ وقت سفر میں ہے۔  کیا ہم لوگ گھر میں غریب الدّیار ہیں؟ ہمیں کہاں جانا ہے؟ ہم کہاں سے آئے ہیں؟ خیال بدل جاتا ہے۔  خیال رخصت ہو جاتا ہے۔  سانس سفر میں ہے، آتا ہے،  جاتا ہے۔  رگوں میں، شریانوں میں خون مسافر ہے۔  نظر مسافر ہے۔  منظر اور پس منظر مسافر ہیں۔

 یہ سب کیا ہے؟ کیوں ہے؟ کب سے ہے؟ کب تک ہے؟

Pages: 1 2 3 4 5