اِنسان بے بس ہے۔ بے بسی یہ ہے کہ وہ اِنسان ہے۔ اِنسان اپنے آپ میں، اپنی تخلیق میں، اپنی فطرت میں، اپنی اِستعداد میں، اپنے اعضاء وجوارح میں،اپنے قواء میں،اپنے ظاہر اور اپنے باطن میں،اپنے حاصل اور اپنی محرومی میں،اپنی خوشی اور اپنے غم میں،اپنے اِرادوں اور اپنی تمناؤں میں،اپنے مشاغل اور اپنی مصروفیتوں میں،اپنے احباب و اغیار میں،غرضیکہ اپنی تمام حرکات و سکنات میں عاجز و ناتواں ہے—!

 انسان کا ہونا اُس کے نہ ہونے تک ہے۔ اُس کا حاصل لا حاصل تک—اُس کی آرزوئیں شکست ِ آرزو تک، خون ِآرزو تک— اُس کی توانائی و صحت ،بیماری تک اور اُس کی ساری تگ و تاز  اُس کے اپنے مرقد تک، اُس کی بلند پروازی اُس کی واپسی تک— اُس کا ہر تخیل، عروج ِ خیال،اُس کے زوال تک ہی ہے — اُس کی اَنا ایک بچّے کے غبارے کی طرح پھولتی ہے اور پھر غبارہ پھٹ جاتا ہے اور وہ عاجز وبے بس ہو کر اِس کھیل سے محروم ہو جاتا ہے۔ اِنسان علم حاصل کرتا ہے۔ خود کو دَوام بخشنے کے لیے وہ لائبریریوں میں داخل ہوتا ہے— اُس کے پا س گنتی کے ایّام ہیں اور کتابیں اَن گنت — اُس کا معلوم محدود رہتا ہے اور لا معلوم لا محدود— وہ تیزی سے علوم چاٹتاہے اور فنا اُس کی زندگی کو چاٹتی ہے— اور انجامِ کار اُس کا انجام— مکمل بے بسی،مکمل عاجزی!

   اِنسان عروج چاہتا ہے—  بلندی چاہتا ہے— پہاڑ کی چوٹی— اُس پر ایک اور پہاڑ رکھتا ہے۔ اُس کی چوٹی پر ایک اور پہاڑ رکھتا ہے اور پھر یہ سلسلہ چلتے چلتے اُس وقت تک آپہنچتا ہے جب اُس کے سَر  کیے ہوئے سب پہاڑ،سب چوٹیاں دھڑام سے زمیں بوس ہو جاتی ہیں— وہ افسوس کرتا ہے تو اُس کے پاس افسوس کا وقت نہیں ہوتا۔ وہ سوچتا ہے اور سوچ کر عاجز ہو جاتا ہے کہ اُس نے کیا چاہا — اُس نے کیا سوچا— اُس نے کیا پایا— اُس کے ہاتھ آنے والی ہر چیز اُس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور وہ اپنے حاصل سے نکل جانے پر مجبور ہو جاتا ہے—!

 وہ مکان بناتا ہے— خوب صورت، دیدہ زیب، آسائش وزیبائش والا مکان— اُس کا اپنا مکان، اُس کے حُسن ِ خیال کا شہکار— اُس کا مکان خوشیوں سے جگمگاتا ہے— اور پھر یہی عشرت کدہ   ماتم کدہ بننا شروع ہوتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ اُس نے کیا بنایا— اُس کا افتخار انجامِ کار بے بسی میں خاموش ہو جاتا ہے۔

Pages: 1 2 3 4