بچہ اپنے بیان کے جادُو میں مجھے لپیٹتا جا رہا تھا اور میں ایک بچے کے ہاتھوں بے بس ہونے کی ندامت کو چھپانے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھا کہ بچہ مجھ سے مخاطب ہوا :’’تم ایسا کیوں سوچ رہے ہو کہ میں نے تمہیں سامع  بنا دیا۔ یہ اس لیے کہ تم ابھی اپنے قد سے باہر نہیں نکلے۔ تم ابھی تھوڑا تھوڑا زندہ ہو۔ میرے اور ان لوگوں کے درمیان صرف تم ہی ایک پُل کا کام کر سکتے ہو۔ تم میری بات سنتے جاؤ کیونکہ اب اس کے سوا تمہارے پاس کوئی چارہ نہیں۔ ہاں! تو یہ لوگ، اپنی آبادیاں ویران کرکے آنے والے، یہاں کون سی آبادی میں مصروف ہیں۔ یہ لوگ شاید مر چکے ہیں لیکن اِن کے پاس اپنی موت کی خبر دینے کے لیے وقت بھی نہیں تھا۔ یہ بڑی اَذیّت اور گمنامی میں مرے ہوں گے— لیکن نہیں! یہ مرے نہیں—  یہ تو صرف اور صرف موت کے انتظار میں زندہ ہیں۔ اِن کا زیادہ حصہ مر چکا ہے لیکن سانس زندہ ہے۔

اِن کا احساس مر چکا ہے، اِن کا دل مر چکا ہے،اِن کی یادداشت مر چکی ہے،اِن کا ماضی مَر گیا، اِن کامستقبل بھی مَر گیا۔ اِن کا حال بدحال ہے۔ اِن کی سماعت بہری ہو گئی ہے۔ اِن کی آنکھوں کے آگے بینائی ہی کا پردہ آ  گیا ہے۔ آوازوں کی کُہر میں اِن  کی گویائی ڈوب گئی ہے۔ یہ سب لوگ کسی کے نہیں ہیں، یہ اپنے بھی نہیں ہیں۔ یہ محبّت  نہیں کر سکتے۔ یہ صرف مقابلہ کر سکتے ہیں —اور آخری مقابلہ، موت کا مقابلہ ہے۔ یہ لوگ، ذرا غور سے دیکھو!— یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ یہ صرف ”وقت“ کھاتے جا رہے ہیں اور وقت پورا کر رہے ہیں اور پھر اِن کا وقت ختم ہو جائے گا — لیکن نہیں، اِن کو جلد موت نہیں آئے گی۔

اِن کے پاس بڑے بڑے ہسپتال ہیں، بڑے انتظامات ہیں۔ یہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ کئی کئی مہینے،  کئی کئی سال بستر پر زندہ رہتے ہیں۔ یہ ہزار قسم کی نالیاں لگا لیتے ہیں اور موت سے چھپ کر خاموش لیٹے رہتے ہیں کہ کسی کو خبر تک نہ ہو۔  یہ بڑے لوگ بن گئے ہیں۔ وہ دیکھو! وہ آدمی جو ہماری طرف دیکھ رہا ہے۔ وہ پہچاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ ہم لوگ کون ہیں۔ وہ اپنا ہی ہے، وہ بہت قریبی تھا۔ وہ قریب آنا چاہتا ہے، لیکن اُس کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ قریب آ سکے۔ وہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کا غلام ہو چکا ہے۔ اُس کے پاس اپنی مرضی سے چلنے پھرنے تک کا اختیار نہیں۔ وہ ایک صاحبِ مرتبہ آدمی ہے۔ اُس کے پاس اپنے لیے بھی وقت نہیں ہے“۔

بچہ  فسونِ کلام سے مجھے مکمل گرفتار کر چکا تھا۔ میں نے اس سے آزاد ہونا چاہا۔ میں نے چاہا کہ اِس کی باتوں کو سُنا اَن سُنا کر کے بھاگ جاؤں۔ بچہ بولا: ’’تم مجھ سے آزاد نہیں ہو سکتے، تم بھاگ نہیں سکتے۔ تم میرے حلقۂ تاثیر میں ہو۔ یہ دیکھو! تم خود کیا ہو۔ تم غور کرو۔ تم میری طرح بنتے جا رہے ہو۔ تم خود ایک بچہ ہوتے جا رہے ہو۔ لو!یہ دیکھو!  تم میرے جیسے ہو گئے۔ لو! تم تو مَیں ہی ہو گئے۔ اب میری کیا ضرورت!“

یہ کہہ کر بچہ غائب ہو گیا۔ میں نے دیکھا اب اِس میدان میں مَیں اکیلا بچہ تھا۔ میں خود ہی پکار کر کہہ رہا تھا: ’’آؤ! ہم لوٹ چلیں۔ آؤ! ہم ایک بار پھر عہدِکہن تازہ کریں۔ آؤ! ہم سب”ہم“ بن جائیں۔ آؤ! تازہ ہواؤں کی طرف۔ مشینوں کو مشینوں  کے کام پر لگا کر آؤ  بھاگ چلیں۔ آؤ! ہم قدرت کے نظاروں کے قریب ہو جائیں تاکہ ہم صداقت کے قریب ہو جائیں۔ آؤ!  چار دن کی زندگی میں زہر گھولنا بند کر دیں۔ آؤ!  اَذیّت دینے اور اَذیّت لینے کے اَذیّت ناک عمل سے توبہ کریں۔ آؤ—آؤ—! گزرے ہوئے زمانوں کو پھر سے یاد کریں۔ آؤ! کہ ابھی تھوڑا سا وقت باقی ہے۔ آؤ! گزشتہ سے پیوستہ ہو جاؤ۔آؤ!  زندگی سے دُکھ کم کریں۔ آؤ !اپنی بجائے دوسروں کے لیے زندگی گزاریں۔ آؤ !فریادی کی فریاد سنیں۔ آؤ!   چمگادڑوں کو آزاد کر دیں اور ویران زمانے آباد کر دیں۔ آؤ! بجھے ہوئے چراغ روشن کر دیں۔ آؤ!— آؤ ، کہ معاف کر دیں ایک دوسرے کو۔ فتح کی سنّت پوری ہو گئی، عام معافی کی سنّت ادا کریں۔ آؤ! ایک بار پڑھا ہوا کلمہ پھر سے پڑھیں۔ آؤ!  حضور اکرمﷺکی اُمّت کے ہر فرد کو خوشی عطا کریں۔ آؤ! دوسروں کی زندگی اور اپنی عاقبت خراب ہونے سے بچائیں۔ آؤ ساتھیو!— لیکن تم کیسے ساتھی ہو، تم ساتھ ہی نہیں دیتے۔

آؤ! ایمان کی روشنی تلاش کریں۔ آؤ ! محبّت  کے نخلستان آباد کریں۔ آؤ  کہ ہم سب ایک ہی ندی کے دھارے ہیں۔ ہم سب ایک ہی ناؤ  میں سوار ہیں۔ بند کرو ذاتیات — بند کرو جھوٹ کو اخبار کی پذیرائی دینا۔ بند کرو ایمان فروشی کے مکروہ کاروبار۔ بند کرو اپنی خواہشات کے بے ہنگم پھیلاؤ  کا بے مقصد و بے ترتیب سلسلہ۔ بند کرو ایک دوسرے کو بدنامیوں کے بازاروں کی رُسوائی بنانے کا عمل۔ بند کرو کہ تم رُوبرو لائے جانے والے ہو، اُس دن، اُس مالک کے رُوبرو، جس کے سامنے تم جھوٹ نہ بول سکو گے اور پھر تمہارے سر سے ستّار العیوبی کی چادر اُتار دی جائے گی۔ تم کیسے نظر آؤ گے اُس دن، جب عمل تبدیل کرنے کا موقع  نہ دیا جائے گا— جب توبہ کا لفظ تو ہو گا لیکن اُس کے معنی نہ ہوں گے—   وہ دِن بہت دُور ہے— یہی تو ہے تمہاری ناعاقبت اندیشی!“

ابھی میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ آواز آئی: ’’بس اَب لوٹ جاؤ اِس ماحول سے—  یہ تو عالمِ خواب ہے۔ تم کیا زور لگاتے جا رہے ہو“۔  بس پھر کیا تھا، خواب سے بیداری کے بعد پہلا کام یہ ہوا کہ آئینے میں اپنے آپ کو دیکھا۔ میں پورا ہی تھا۔ شکر ہے کہ میں بچہ نہ رہا—  لیکن میں ابھی تک سوچ رہا ہوں کہ وہ کون تھا اور میں کون تھا— اور یہ سب کیا تھا۔ کیا یہ واقعی محض خواب تھا؟

Pages: 1 2