ترقی کا زمانہ ہے،تعمیر کا دَور ہے، تیزی کا وقت ہے،تعجیل کی گھڑی ہے۔ ہر شے بھاگے چلی جا رہی ہے۔ گردشِ زمان ومکاں تیز تر ہے۔ اِنسان مشین ہے، مشین کا پرزہ ہے،جلد باز ہے،جلد رفتار ہے۔ اس کے سامنے لا محدود فاصلے ہیں اور وقت محدود ہے،اِس لیے وہ دوڑتا ہے اور دوڑتا ہی چلا جاتا ہے۔ اِنسان کو یہ تو معلوم ہے کہ اُسے جلدی جانا ہے، لیکن کہاں جانا ہے،یہ معلوم نہیں۔
اِنسان شایدتعمیرِحیات کے لیے جلدی کرتا ہے،اُسے فوری طور پر زندگی مکمل کرنا ہے اور وہ جلدی جلدی اِسے بناتا ہے، بناتے بناتے بگاڑتا ہے،اور اُس کے ہاتھ سے زندگی یوں نکل جاتی ہےجیسے ہاتھ سے کبوتر اُڑ جائے،یا ہاتھوں کے طوطے اُڑ جائیں۔
اِنسان فطرتاً جلد باز ہے۔ وہ آہستہ رَوی یا میانہ رَوی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ ایک ہی دِن میں سارے کام ختم کرنا چاہتا ہے۔ پورے تیس دن کے طویل انتظار کے بعد اُسے تنخواہ ملتی ہے اور اسے وہ ایک ہی دِن میں خرچ کر دیتا ہے، اور پھر وہی اِنتظار—تنخواہ کے علاوہ آمدن کا اِنتظار — جائز آمدنی اور ناجائز آمدنی کا اِنتظار— اِنسان بھاگتا ہے جیسے اُس کے اندر آگ سی لگی ہوئی ہو — جب خطرہ اندر ہو،تو باہر کی رفتار اسے کیسے ٹالے گی؟
تیز رفتاری ہی شاید ترقی کا دوسرا نام ہے! تیز رفتاری نے فاصلے سمیٹ لیے ہیں —اِنسان،اِنسان کے قریب آرہا ہے— یہ الگ بات کہ وہ اپنے آپ سے دُور ہو رہا ہے۔ ہر شے ہر دوسری شے کے قریب ہے۔ یہ تیز مسافرت،یہ جہاز،یہ اِنگلستان، یہ امریکہ،یہ افریقہ، یہ پاکستان اور پھر یہ زندگی—اور یہ رہا قبرستان! ہر سفر جلدی کا سفر ہے۔ کہیں قیام ہی نہیں—تیز رفتاری کی منزلوں میں کوئی مقام بھی تو نہیں—کہیں کوئی پڑاؤ نہیں۔ زمین سے آسمان تک کے فاصلے طے ہو رہے ہیں— برسوں کی مسافتیں منٹوں میں طے ہوتی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، سیّارے سب زمین پر اُتر آئے ہوں—یا زمین آسمان پر جا پہنچی ہو۔
سائنس نے اِنسان کو رفتار دی ہے لیکن یہ رفتار بے جہت وبے سمت ہے۔ آج کی راہیں کوئے جاناں کو نہیں جاتیں۔ آج کا اِنسان اپنے آپ سے فرار چاہتا ہے۔ اپنے جامے سے نکلنے والا اِنسان اپنی بے مائیگی کا احساس نہیں کرتا۔