پریشانی حالات سے نہیں،خیالات سے پیدا ہوتی ہے۔ جو انسان اپنے موجود لمحے سے گریزاں ہو گا،وہ پریشان ہو گا۔ اِنسان آنے والے حالات سے خوفزدہ ہو کر جانے والے حالات کو پریشان کر دیتا ہے۔ اگر گزرے ہُوئے زمانےخوشی کے زمانے ہوں تو بھی اُن کی یاد باعث ِ پریشانی ہے کہ اب وہ دِن کہاں گئے،خوشی کے دِن گزر گئے۔ جوانی اور صحت کے ایّام، محبّت و وارفتگی کے دِن ہَوا ہو گئے۔ پریشانی تو یہ ہے کہ خوشیاں ختم ہو گئیں۔ وہ دِن بھی کیا دِن تھے، وہ زمانے بھی کیا زمانے تھے، وہ دَرد بھی کیا دَرد تھا، ساتھی کتنے وفادار تھے ،اب بس یاد ہی یاد ہے—پریشانی ہی پریشانی!

  اگر ماضی کسی غم سے عبارت ہو تو بھی باعث ِ پریشانی ہے۔غم کی یاد ایک تازہ غم دے جاتی ہے۔ عجب حال ہے،خوشی کی یاد بھی پریشان اور غم کی یاد بھی پریشان۔

 اِسی طرح مستقبل اگر اُمّید سے عبارت ہو تو بھی حال پریشان ہے کہ کب وہ سُہانا دَور آئے گا۔اگر خطرے کا اندیشہ ہو تو بھی حال پریشان ہے کہ اِنسان دُور سے نظر آنے والے خطرے کو ہمیشہ قریب ہی سے محسوس کرتا ہے۔ زِندگی کے نصیب میں پریشانی لکھ دی گئی ہے۔ کبھی اپنے لیے پریشانی ہے،کبھی دوسروں کے لیے پریشانی ہے،کبھی اِس زِندگی کا فکر ہے،کبھی موت کے بعد کا منظر آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ پریشانی ہر حال میں رہتی ہے۔ پریشانی اِنسان کے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔اِس کا علاج اُس وقت تک نا ممکن ہے جب تک زِندگی دینے والے سے نہ پوچھا جائے۔ جس ادارے نے جو مشین بنائی ہو،وہی اُس مشین کی حفاظت، اُس کے اِستعمال اور اُس کی اِصلاح کا عمل جانتا ہے۔

  اگر زندگی ہمارے اپنے عمل کا نام ہے تو اِس کے اندر پیدا ہونے والے بگاڑ اور فساد کے ہم خود ہی ذمہ دار ہیں۔ اگر ہم اپنا علاج ہی نہ کر سکیں تو  ہمیں اپنے اِختیارات کی حقیقت معلوم ہو جانا چاہیے۔ اگر زندگی اپنے پیدا کرنے والے ہی کو  نہ مانے تو اِسے پریشانی سے کون بچائے۔ ہم اپنے آپ پر اپنی ہمت سے زیادہ بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ ہم خود ہی اپنی پریشانیوں کے مصنّف ہیں اور خود ہی اپنی پریشانیوں سے تنگ ہیں۔ ہم متضاد خواہشات رکھتے ہیں۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری دَم توڑ دیتی ہے۔ اگر دولت اکٹھی کی جائے تو رزقِ حلال کا تصوّر پریشان کرتا ہے اور اگر رزقِ حلال ہی پر  قناعت کی جائے تو تلخی  ٔحالات پر رونا آتا ہے۔ پریشانی بہر صورت رہتی ہے۔ وطن سے باہر رہنے والوں کو وطن کی یاد پریشان کرتی ہے۔ وطن میں رہنے والوں کو باہر جانے کی تمنّا پریشان   رکھتی ہے۔ ہر اِنسان کو اپنے علاوہ کچھ بننے کی آرزو ہے اور یہی آرزو وجۂ پریشانی ہے۔

   ہم اپنے علاوہ کچھ نہیں بن سکتے —  یہ حقیقت ہی زندگی کا ضابطہ ہے۔ اِسی سے زندگی کے شعبے اور پیشے قائم ہیں،اِسی سے نظامِ ہستی قائم ہے۔ ہمیں ہماری حدود میں قائم رکھنے والی قوّت پریشان تو  کرتی ہے لیکن یہی قوّت زندگی کا راز ہے۔ہر اِنسان حکمران بننا چاہتا ہے، اگر یہ خواہش پوری ہو جائے تو کون کس کا حکمران ہو گا؟— عجیب پریشانی ہو جائے گی۔ کوئی اِنسان غریب نہیں رہنا چاہتا—اگر سب ہی اَمیر ہو جائیں تو کیا ہو گا؟ اگر دُنیا کی دولت برابر تقسیم کر دی جائے تو چہرے کیسے برابر ہوں گے؟ عقل کیسے برابر ہو گی؟ دِل کیسے برابر ہوں گے؟ دِلبر کیسے برابر ہوں گے؟ ایک نئی قسم کی غیر مساوی تقسیم کا شعور پیدا ہو جائے گا۔ اِنسان علاج میں ترقی کرتا ہے۔ نئے نئے علاج دریافت ہوتے ہیں اور پھر ایک نئی بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ کوئی نہ کوئی بیماری ضرور مہلک اور لا علاج رہے گی۔ اگر علاج سائنس بن جائے تو دُعا کا مقام کیا ہو گا؟

Pages: 1 2 3