اِنسان جس حال میں بے سکون ہوا ہے، اُسے اُس حال میں سکون چاہیے لیکن وہ غلطی سے کسی اور حال میں سکون دریافت کرنا چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اُسے سکون نہیں ملتا۔ آج کا اِنسان سکون کی خاطر آسمانوں کے دروازے کھولنے چلا گیا ہے، لیکن اُس سے دِل کا دروازہ نہیں کھلتا۔ مَن کی چِنتا دُور نہ ہو تو سکون نہیں مل سکتا۔
آج کا سب سے بڑا اَلمیہ خود گریزی ہے اور سکون کے لیے خود شناسی اور خود آگہی درکار ہے۔ ایک دفعہ ایک آدمی جسے اپنے گھر میں سکون نہیں ملتا تھا، اپنی بیوی سے کہنے لگا: ”بیگم! میں چاہتا ہوں کہ سکونِ قلب کی خاطر مقدّس سفر اختیار کروں۔ “ بیوی سمجھ گئی کہ اُس کا خاوند اُس سے بیزار ہے۔ بولی: ”اِتنے نیک سفر میں دیر کیا ہے؟ چلیے! میں بھی اِس نیکی کی تلاش میں آپ کے ہمراہ چلتی ہوں۔ “ خاوند نے کچھ دیر سوچا، بولا: ”چلو جانے دو، میرے نصیب میں سکون نہیں، مَیں اِسی جہنم میں گزر اوقات کر لوں گا۔ “
بات دراصل اتنی سی ہے کہ سکونِ قلب اپنے موجود حالات ہی میں مِل سکتا ہے۔ جسے اپنے دیس میں سکون نہیں مِلا، اُسے پردیس میں کیا اطمینان حاصل ہو گا۔ جسے اپنے گھر میں راحت نہ ملی، اُسے اور کون سے گھر میں فرحت ملے گی۔ سکونِ قلب اپنی زندگی ہے، اپنا اندازِ فکر ہے۔
جو اِنسان یہ سمجھتا ہے کہ اچھا زمانہ یا تو گزر گیا ہے یا ابھی آیا ہی نہیں، وہ کیسے سکون حاصل کر سکتا ہے۔ ایک دفعہ ایک جگہ کچھ دوست خوش بیٹھے تھے۔ ایک بے سکون اِنسان وہاں آیا، بولا: ”آپ کیوں خوش ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”کتنا اچھا موسم ہے۔ “آنے والے نے آہ بھری، بولا: ”اچھے موسم کب تک بھائی! “
اگر خواہش اور حاصل کا فرق مٹ جائے تو سکون مل جاتا ہے۔ اِنسان کو جو پسند ہے، حاصل کر لے یا پھر جو حاصل ہے، اُسے پسند کر لے تو سکون مل جاتا ہے۔ جب ہماری تمنّا کے پاؤں حاصل کی چادر سے باہر نکل جاتے ہیں توہمیں سکون نہیں ملتا۔ سکون حاصل کرنے والے تختۂ دار پر بھی پُر سکون رہے اور مضطرب رہنے والے تخت ِ شاہی پر بھی سسکیاں بھرتے رہے۔ خواہش کا بے ہنگم پھیلاؤسکون سے محروم کر دیتا ہے۔ خواہش کی داستان کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ آغاز رہ گیا، کبھی انجام رہ گیا، اور اِسی کش مکش میں یہ چند مقدّس ایّامِ ہستی ختم ہو جاتے ہیں۔