Dil Darya Samundar by Wasif Ali Wasif is an invitation to see beyond the apparent and listen beyond the audible. It explores the inner dimensions of existence through the language of love, insight, spirituality, and self-awareness. For those blessed with an awakened vision, every scene reveals another scene, and every page of the universe unfolds into a new universe.
The purpose of this book is not merely to present ideas, but to illuminate the reader’s inner vision. Wasif Ali Wasif presents the timeless wisdom of the elders and seekers as “old lamps” that may still carry a new light for those willing to look within. The light itself belongs to no one; it illuminates whoever is granted the sight to perceive it.
جو ذات شکم ِمادر میں بچّے کی صورت گری کرتی ہے، وہی ذات خیال اور احساس کی صورت گر بھی ہے۔ پیدا فرمانے والے نے چہروں کو تأ ثر دینے والا بنایا، اور قلوب کو تاثیر قبول کرنے والا۔ ہر چہرہ ایک رینج (range) میں تأ ثر رکھتا ہے اور اس کے باہر وہ تاثیر نہیں ہوتی۔ دائرۂ تاثیر صدیوں اور زمانوں پر بھی محیط ہو سکتا ہے۔ یہ خالق کے اپنے کام ہیں۔ آنکھوں کو بینائی عطا فرمانے والا نظاروں کو رعنائی عطا فرماتا ہے۔ وہ خود ہی دِل پیدا فرماتا ہے، خود ہی دلبر پیدا فرماتا ہے، اور خود ہی دلبری کا خالق ہے، بلکہ وہ خود ہی سرِّدلبراں ہے۔
محبّت کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ہوتی، یہ عطا ہے، یہ نصیب ہے بلکہ یہ بڑے ہی نصیب کی بات ہے۔ زمین کے سفر میں اگر کوئی چیز آسمانی ہے، تو وہ محبّت ہی ہے۔
محبّت کی تعریف مشکل ہے۔ اس پر کتابیں لکھی گئیں، افسانے رقم ہوئے، شعراء نے محبّت کے قصیدے لکھے، مرثیے لکھے، محبّت کی کیفیات کا ذکر ہوا، وضاحتیں ہوئیں، لیکن محبّت کی جامع تعریف نہ ہو سکی۔ واقعہ کچھ اور ہے، روایت کچھ اور۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ ایک چہرہ جب انسان کی نظر میں آتا ہے تو اُس کا انداز بدل جاتا ہے۔ کائنات بدلی بدلی سی لگتی ہے، بلکہ ظاہر و باطن کا جہان بدل جاتا ہے۔
محبّت سے آشناہونے والا انسان ہر طرف حُسن ہی حُسن دیکھتا ہے۔ اُس کی زندگی نثر سے نکل کر شعر میں داخل ہو جاتی ہے۔ اندیشہ ہائے سُودوزیاں سے نکل کر اِنسان جلوۂ جاناں میں گم ہو جاتا ہے۔ اُس کی تنہائی میں میلے ہوتے ہیں۔ وہ ہنستا ہے بے سبب، روتا ہے بے جواز۔ محبّت کی کائنات جلوۂ محبوب کے سوا کچھ اور نہیں۔
محبوب کا چہرہ محب کے لیے کعبہ بن کے رہ جاتا ہے۔ محبّت انسان کو زمان و مکاں کی ظاہری قیود سے آزاد کر دیتی ہے۔ محبّت میں داخل ہونے والا ہر داستانِ الفت کو کم و بیش اپنا ہی قصہ سمجھتا ہے۔ وہ اپنے غم کا عکس دوسروں کے افسانوں میں محسوس کرتا ہے۔ محبّت وحدت سے کثرت اور کثرت سے وحدت کا سفر طے کراتی ہے۔ محبّت آسمانوں کی بے کراں وسعتوں کو ایک جست میں طے کر سکتی ہے۔ محبّت قطرے کو قلزم آشنا کر دیتی ہے۔ محبّت زمین پر پاؤ ں رکھے تو آسمانوں سے آہٹ سنائی دیتی ہے۔ محبّت کرنے والے کسی اور مٹی سے بنے ہوتے ہیں۔ یہ خلوص کے پیکر دنیا میں رہ کر بھی دنیا سے الگ ہوتے ہیں۔ در اصل محبّت زندگی اور کائنات کی انوکھی تشریح ہے۔ یہ قرآنِ فطرت کی الگ تفسیر ہے۔ یہ حیات و مرگ کے مخفی رموز کی جداگانہ آگہی ہے۔ محبّت میں دھڑکنے والے دل کے ساتھ کائنات کی دھڑکنیں ہم آہنگ ہو جاتی ہیں۔ محب اور محبوب کا تقرّب موسموں کو خوشگوار بنا دیتا ہے۔