Guftugu 31-35
Wasif Ali Wasif

Guftugu 31-35

6 Chapters
In an era of spiritual confusion and socio-economic instability, Spiritual Dialogues: Guftugu 31-35 serves as an essential guide to navigating modern life through the timeless wisdom of celebrated Sufi Master Wasif Ali Wasif. This practical book directly addresses the core struggles of contemporary seekers, offering a clear roadmap to bridge the gap between traditional Islamic mysticism and everyday global challenges. By exploring the deep-seated questions of modern followers, this volume provides actionable clarity on the changing state of practicing Islam, the moral implications of humanity’s fixation on wealth, and the urgent structural need for a just, divinely aligned economic system.
Beyond societal issues, this text delves into the psychology of hope and leadership, unpacking the profound philosophy behind waiting for transformative figures like Quaid-e-Azam or the spiritual arrival of Imam Mahdi. It beautifully balances individual spiritual devotion with the protective blanket of divine mercy, offering profound emotional solace through an enlightened commentary on the ultimate Quranic truth that Allah never burdens a soul beyond its capacity. Whether you are an academic exploring Islamic literature, a practitioner seeking everyday peace, or a curious mind looking for answers to modern anxieties, this book offers the targeted clarity and inspiration needed to deepen your faith.
ProseUrdu2025

سوال#1

سوال:

            پہلے تو اسلام کا نام لیاجاتاتھا، لیکن اب صورت ِ حال کچھ اور ہے۔ اس میں کیا کِیاجائے؟

حضرت واصف علی واصفؒ:

                کیا سوال اتنا ہے کہ کیا کِیاجائے؟ یا کچھ اور بھی ہے؟ سوال کا حصّہ ایک اور بھی ہے۔ کہ اب اسلام کا نام نہیں لیاجارہا تو کیا کِیاجائے، کس بات کے لیے—  سوال کا حصّہ اتناہے یاپورا ہے؟ تھوڑی سی اور بات—  بولو — ہاں جی بولو—  !

سائل:   

                یعنی لوگوں کو کیا کِیاجائے؟

حضرت واصف علی واصفؒ:

                اسلام کی طرف لانے کے لیے کیا کِیاجائے؟

اسلام کی طرف لانے کی ضرورت کیا ہے اَب؟ اسلام کچھ لوگوں کی تو سیاسی ضرورت ہے، کہ اسلام کی طرف لانا۔سیاسی ضرورت ہوتی ہے نا کہ وہ کہتا ہے کہ اے ایمان والو، اے مومنو، اے اﷲ کو ماننے والو—  یہ اﷲ سے سیاست ہے—  کہتا ہے کہ ہاتھ کھڑا کرو کہ الیکشن میرے حق میں ہو۔ عام طور پر عجب بات ہے کہ الیکشن کا جلسہ ہے،تقریر اسلام کے نام کی اور جو بندہ اس تقریر کی وجہ سے کامیاب ہوناچاہتاہے وہ اسلام میں مکمل نہیں ہے، وہ کمزور ہے، یا مخالف ہے۔ اگرآپ کو پرانا زمانہ یاد ہو تو اسلام کو پسند کرنے والے یا اسلام پر عمل کرنے والے لوگوں نے یہی اعتراض کیاتھا کہ اگر کوئی ایسا پاکستان تم بنارہے ہو جو اسلام کے لیے ہوگا تو جس لیڈر کو تم نے اسلام کایا پاکستان کا سربراہ منتخب کیا یا پاکستان موومنٹ یا تحریک کا ہیڈ بنایا ہے اُس کے اندر اسلام میں کمی نظر آرہی ہے۔ یہ علماء کا فتویٰ تھا۔ قائد اعظمؒ کو غیر قائد اعظم کہاگیا، میں کافرِاعظم نہیں کہتا لیکن کہاگیا۔آپ کو یاد ہو گا۔کیوں؟ کہ اگر اسلام کے نام پہ کوئی ملک بنناہے تو جو اس کو Lead کرنے والے ہیں وہ کم از کم اسلام میں وہ مقام رکھتے ہوں جو علماء کا مقام ہے۔ ثابت یہ ہوا کہ مسلمانوں کی خدمت ایک ایسے شخص نے کردی جو بظاہر اسلام کی دعوت سے باہر تھا، تھا مسلمان ہی لیکن دعوت دینے والوں کے مزاج کے علاوہ۔ اقبال بھی دعوت دینے والوں کے مزاج کے علاوہ۔ اقبال رحمۃ اﷲعلیہ دارِ فانی سے رخصت ہو گئے

اقبالؔ بڑا اُپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتاہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا،کردار کا غازی بن نہ سکا

گفتار کے غازی بننے والے تو مسلمان تھے مگر کردار کے نہیں تھے۔لوگوں نے اُن کو بھی نہیں چھوڑا حالانکہ وہ اسلام کی خدمت کرنے والے تھے۔ جب آپ یہ سوال کرتے ہو کہ اسلام کی طرف بلاناہے تو آپ کس Capacity میں کرتے ہو؟ مثلاً اسلام کی طرف بلا رہی ہے جمیعت ِ ”تخلیقِ ملتِ اسلامیہ “وحدت کی تخلیق کرنے والے سب بلا رہے ہیں، تمام جماعتیں بلارہی ہیں،۱ سلامی جماعتیں، تمام علماء بلارہے ہیں، نئے علما بھی بلا رہے ہیں، پرانے علماء بھی بلارہے ہیں۔ اور جو بالکل Recently،نئے ہیں، وہ بھی اسلام کے نام پر بلارہے ہیں،اور آپ اس بات سے مطمئن نہیں ہو۔کیوں مطمئن نہیں ہو، کہتاہے کہ یہ اسلام کی طرف بلاناجو ہے، اسلام کی طرف جانا نہیں ہے۔ مسلمانوں پہ آپ نے کیا اسلام نافذ کرناہے۔کمال کی بات ہے۔ پاکستان کے اندر رہنے والے لوگ مسلمان ہیں۔ امیر آدمی کیسے ہوگیا، غریب کوچھوڑکر۔ آپ بھی مسلمان ہیں، ہم بھی مسلمان ہیں، آپ کے پاس ذرا زیادہ مال ہے، ہمارے پاس کم مال ہے — یہ دونوں مسلمان برابر کیسے ہوگئے۔ہمارا تمہارا ایک اﷲ نہیں ہوسکتا۔ اگر ایک اﷲ ہے تو پھریہ ایک  بات نہیں ہے۔ آپ کے پاس تیل کے چشمے ہیں اور ہمارے چراغ میں تیل نہیں ہے۔ گھر کے اندر بتّی نہیں جل رہی،تم واپڈا کے ہیڈ ماسٹر ہو اورپندرہ روپے میں ہمارا میٹر کاٹ کے لے گیا۔ آپ بات سمجھ رہے ہیں نا؟