عذاب اور عبرت کے الفاظ سننے میں بھی سخت ہیں اور سمجھنے میں بھی۔ عذاب کسے کہتے ہیں؟ — عذاب اُس وقت کا نام ہے جب انسان اپنے اعمال کا نتیجہ اپنے سامنے دیکھے۔ اِنسان کی بداعمالیاں جب ایک خوفناک نتیجہ بن کر اُس کی راہ میں آموجود ہوں،عذاب کا لمحہ ہے۔
فطرت اِنسان کی لغزشوں اور بد اعمالیوں کو اکثر معاف کرتی ہے۔ اِنسان اپنے اعتقادات کا مذاق اُڑاتا ہے۔ وہ سرکشی کرتا ہے، وہ لاف زنی کرتا ہے۔ وہ خود کو خود ساختہ مالک و مختار سمجھتا ہے، وہ اطاعت سے رُوگردانی کرتا ہے اور اگر اطاعت کرے بھی تو اُس کا معاوضہ اِس شکل میں وصول کرتا ہے کہ لوگ اُس کی اطاعت کریں— فطرت خاموش رہتی ہے—سرکشی جاری رہتی ہے اور پھر ایک ایسا لمحہ آتا ہے کہ ظالم کا ہاتھ معصوم کی طرف اُٹھتا ہے—مجبور پر اُٹھتا ہے—مظلوم کی فریاد فطرت کو اِنصاف کے لیے پکارتی ہے،بس فطرت جب اِنصاف کرنے پر آجائے تو سمجھ لیجیے کہ عذاب کا وقت آگیا—کسی اِنسان کے کون سے اعمال کسی اِنصاف کے کیسے منتظر ہو سکتے ہیں— انصاف،بس قیامت ہے،عدالت رحم نہیں کرتی۔ جب رحم نہ رہے تو اعمال کا نتیجہ سوائے عذاب کے اور کیا ہو سکتا ہے! عذاب کے لمحات،محاسبے کے لمحات ہیں،عبرت کی گھڑیاں ہیں— قیامت کا منظر ہے۔
عذاب کا وقت،وہ وقت ہے جب اِنسان سے دُعائیں چھن جائیں— جب اِنسان گُتھیوں کو اپنی عقل سے سلجھانا چاہے اور عقل سے وہ گُتھیا ں مزید اُلجھ جائیں تو سمجھ لیجیے کہ عذاب قریب ہے۔ عقل اور صرف عقل،طاقت اور صرف طاقت مسائل کا حل نہیں دے سکتے۔ جب تک اُس کا فضل حاصل نہ ہو،ہمارے تمام کام اور ہمارا تمام حاصل ہمارے لیے عذاب لکھ رہے ہیں—ہم خوداپنے لیے اپنے ہاتھوں سے عذاب لکھتے ہیں۔
یتیم کا مال کھانے والا کتنی خوش فہمی میں مبتلا ہوتا ہے کہ اُسے کوئی روک نہیں سکتا—مال کا مالک یتیم ہے،محروم ہے،اور غاصب اپنی قوت میں ہے۔ وہ یتیم کا مال ہڑپ کر جاتا ہے،بس یہاں سے ہی عذاب کی اِبتدا ہوتی ہے۔ یتیم کا مال،یتیم کا حق،یتیم کا حصہ پیٹ میں جائے تو ایسے ہے جیسے پیٹ میں آگ— اور عذاب کسے کہتے ہیں— جب اِنسان کا لالچ، اُس کی عقل اُسے آگ نگلنے پر مجبور کر دے۔ عذاب کو ہم خود ہی دعوت دیتے ہیں۔ ہوس ِزر پرستی اِبتدائے عذاب ہے۔
جب اِنسان کے دِل سے اِنسانوں کا اِحترام اُٹھ جائے تو سمجھ لیجیے کہ عذاب کا دَور
آ گیا۔ عذاب کے زمانے بد اعتمادی اور بدنظمی کے زمانے ہیں۔ جب اِنسان دوستی،اِنسان دشمنی میں تبدیل ہو جائے تو آغازِ عذاب ہے۔ اِنسان جب اِنسانوں کو خوفزدہ کرے یا اُن سے خوفزدہ رہے تو اور عذاب کیا ہے! تعجب تو یہ ہے کہ ہر اِنسان ہر دوسرے اِنسان کو بُری نگاہ سے دیکھے اور افسوس تو یہ ہے کہ کوئی کسی کاپُرسانِ حال نہ ہو—ہر طرف قیل و قال ہو اور حال یہ ہو کہ بس بُرا حال ہو— ہر طرف مسیحاؤں کا ہجوم ہو اور مریض دَم توڑ رہا ہو— خدا خوفی نہ رہے تو مخلوق خوفی کی وبا پھیل جاتی ہے— اور عذاب کی اِنتہائی صورت یہ ہے کہ عذاب نازل ہو رہا ہو اور لوگ بدمستیوں اور رنگ رَلیوں میں محوہوں— پانی سر تک آنے والا ہو اور اِنسان ٹس سے مَس نہ ہو۔