اِنسان پریشانی سے دو چار نہ بھی ہو تو بھی وہ پریشانی سے آشنا ضرور ہوتا ہے۔ پریشانی اِنسان کو زِندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ضرور مل جاتی ہے اور پھر اُس کے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔ اپنے حالات سے ہی پریشانی پیدا ہوتی ہے، اِنسان اپنی حالت کو بہتر بنانے کے لیے جب پریشان ہوتا ہے تو حالت بہتر بنانے کی صلاحیت سَلب ہو جاتی ہے۔ زندگی کا ہر شعبہ اور ہر طبقہ پریشان ہے۔ امیر پریشان ہے کہ نہ جانے کب دولت ہاتھ سے نِکل جائے۔ غریب پریشان ہے کہ نہ جانے اب زِندگی کیسے گزرے گی۔ نیک انسان اِس لیے پریشان ہے کہ اُسے بُرے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ نیک زندگی گزارنے کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ نیک اِنسان رِشوت دینا نہیں چاہتا اور رِشوت بغیر اُس کے کام نہیں ہو سکتے۔ بس پریشانی ہی پریشانی ہے۔
والدین اولاد کے ہاتھوں پریشان ہیں اور اولاد والدین سے نالاں ہے۔ بچے والدین کا کہنا نہیں مانتے اور والدین بچوں کا کہنا نہیں مانتے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کوسمجھاتے ہیں اور ایک دوسرے سے پریشان ہیں۔ افسر ماتحتوں سے پریشان ہیں۔ ماتحت گستاخ ہیں اور ماتحتوں کو گلہ ہے کہ افسر نااہل ہیں۔ اپنے لیے کچھ اور پسند کرتے ہیں اور ماتحتوں کے لیے کچھ اور۔ حکومت سیاستدانوں سے پریشان ہے اور سیاستدان حکومت سے پریشان ہیں۔ جلسے ہی جلسے ہیں اور پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں، دعوے ہی دعوے ہیں، بیانات ہی بیانات ہیں، تقریریں ہی تقریریں ہیں، وعدے ہی وعدے ہیں اور پریشانی بڑھتی جا رہی ہے۔ جلسوں پر کتناخرچ ہوتا ہے —خرچ کی کیا بات! خرچ بغیر تواِنسان کو قبر بھی نصیب نہیں ہوتی۔
لوگوں کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے اور پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مریض ڈاکٹروں کے رویے سے پریشان ہیں۔ مریض سے محبّت کرنے کا زمانہ گزر گیا اب تو مریض کے حال پر نظر کرنے کی بجائے مریض کے مال پر نظر ہوتی ہے۔ پریشانی ہی پریشانی ہے۔ مریض ہونا غریب ہونے کی ابتداہے۔ غیر قانونی ہڑتالوں سے ہسپتالوں میں پریشانی کا جو عالَم ہوتا ہے اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اُستاد شاگرد کا مقدّس رِشتہ بھی پریشان ہو کر رہ گیا ہے۔ کالج کے طلباء اپنے اساتذہ کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں،بس خدا کی پناہ—کسی زمانے میں طلباء اساتذہ سے ڈرتے تھے اور آج اساتذہ طلباء سے ڈرتے ہیں۔ اُستاد پریشان ہیں،طالب ِ علم کہنا ہی نہیں مانتے! اُستاد طلباء کو ایسی سزا دیتے ہیں کہ خدا کی پناہ —بڑے بڑے کالجوں کا نتیجہ خوفناک حد تک کمزور رہتا ہے۔ طلباء فیل ہو جاتے ہیں اور یوں ایک مستقل پریشانی میں داخل کر دیے جاتے ہیں۔ طلباء کلاس رُوم میں پریشان رہتے ہیں۔ کمرۂ اِمتحان میں بھی پریشان ہوتے ہیں، سڑکوں پر آجاتے ہیں اور پھر ایک نئی قسم کی پریشانی ہوتی ہے۔ اللہ رحم فرمائے ،آج کے طلبہ پر،آج کے اساتذہ پر—آج کی تعلیم پر!
ہر شعبۂ حیات اپنے اپنے انداز سے پریشان ہے۔ ہرشخص اپنے ماحول میں پریشان ہے، یوں لگتا ہے کہ ہر ستارہ اپنے اپنے مدار میں سرگرداں بھی ہے اور پریشان بھی!