میں دیکھتاکیا ہوں، کہ ایک بچہ ہے، اکیلا، اُداس — لیکن اُس میں کسی قسم کی گھبراہٹ یا مایوسی نہیں۔ وہ بچوں کی طرح نہ بے تاب ہے، نہ بے چین، اور نہ ہی بے فکر۔ بڑی عجب بات تھی— لیکن وہ بچہ اتنا اکیلا بھی نہیں تھا۔ اُس کے اردگرد ہجوم تھا اور یہ ہجوم بڑے انسانوں کا تھا۔ اِس سارے ماحول میں وہ بچہ اکیلا تھا، کیونکہ اور کوئی بچہ نہ تھا۔ میں یہ جاننے کے لیے کہ وہ کون ہے اور یہ سب کون ہیں، اور یہ میدان کون سا ہے، اس بچے کے قریب گیا اور اِس سے پہلے کہ میں اُس سے کچھ پوچھوں، وہ خود ہی بولنے لگ گیا۔ یہ مزید تعجب کی بات تھی۔ اُس کے انداز سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ یا وہ مجھے جانتا ہے یا میں اُسے جانتا ہوں۔
میں نے مزید تجسس کا اظہار کیا تو بچہ بولا: ’’بے صبر ہونا اچھی بات بھی نہیں۔ زبان اور کان کے استعمال سے پہلے آنکھوں کا استعمال کرنا چاہیے۔ دیکھو! یہ کیا ہو رہا ہے۔ یہ سب لوگ ایک ہجوم ہیں اور سارے کے سارے تنہا ہیں۔ کوئی کسی کا پُرسانِ حال نہیں۔ یہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں لیکن ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اسی لیے یہ ایک دوسرے کے پاس سے اجنبی اور بیگانے بن کر گزرتے جا رہے ہیں۔ اِن لوگوں کے اندر ایک اور ہجوم چل رہا ہے۔ یہ سب خاموش ہیں لیکن اِن کے اندر کا ہجوم ایک ہنگامہ کھڑا کر رہا ہے۔ اندر کا ہجوم، ہجومِ خیال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سب ایسے ہیں، جیسے یہ سب ہیں— اور ہاں!“— بچے نے گفتگو جاری رکھی: — ’’اچھا !تو تمہارے سوال کا جواب تو دے دوں، کہ میں کون ہوں،یہ کون ہیں، یہ سب کیا ہے اور یہ کہ، یہ کون سا میدان ہے؟ تم نے اتنے سوال کر دیے کہ مجھے جواب کی مشکل سے دوچار ہونا پڑا“۔
بچے کی باتوں میں کہیں کوئی بچپن کا تأثر نہیں تھا۔ اِس عمر میں وہ ایسے تھا تو ویسی عمر میں کیسا ہوگا، میں سوچنے لگ گیا۔ بچے نے میری حیرت کی پرواہ کیے بغیر اپنا بیان جاری رکھا۔
وہ کہنے لگا: ’’یہ سب میرے رشتہ دار ہیں،میرے عزیز ہیں، میرے ہی ہیں،میرے ہی تھے۔ کل تک یہ سب میرے ساتھ تھے۔ ہم سب یہاں سے دُور گاؤں میں رہا کرتے تھے۔ یہ لوگ آہستہ آہستہ ایک ایک کرکے مجھے چھوڑتے چلے گئے، اِس وعدے کے ساتھ کہ وہ جلد واپس آئیں گے، لیکن وہ اِس میدان میں آ کر سب کچھ بھول گئے، بلکہ ایک دوسرے کی پہچان تو کیا، خود اپنی پہچان اور شناخت بھول گئے۔ شاید واپسی کے وعدے اور واپسی کے راستے ہی بھول گئے۔
ان کے اِس دیس میں اب میں اکیلا رہتا ہوں اور میرے ساتھ اِن لوگوں کی یادیں رہتی ہیں۔ ان کی یادیں اب پرانے کھنڈرات میں چمگادڑیں بن کر اُلٹی لٹکتی ہیں۔ وہ صرف رات کے اندھیروں میں نظر آتی ہیں۔ یہ لوگ بڑے بڑے کشادہ ماحول کو چھوڑ کر آئے ہیں لیکن اِن لوگوں نے مجھے کبھی یاد نہیں کیا۔ اِن کے دل تنگ ہو گئے ہوں جیسے! مَیں مدّتِ بسیار اِن کا انتظار کرتا رہا۔ آخر تھک ہار کر ان کی تلاش میں یہاں آ نکلا۔ یہ میدان، میدانِ خود پرستی ہے، اسے آپ دولت اور شہرت کے حصول کی ”تمنا گاہ“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہاں ان لوگوں نے اپنے قد بڑھا لیے ہیں۔ اپنے لہجے بدل لیے ہیں۔ اپنے دِل تک سے دستبردار ہو چکے ہیں، یہ لوگ۔ یہ مشینوں اور کمپیوٹروں پر کام کرتے کرتے خود بھی کمپیوٹر ہو گئے ہیں۔ یہ سب مجھے دیکھتے ہیں، لیکن پہچانتے نہیں۔ یہ لوگ میری آواز اور پکار سنتے ہیں لیکن اِن کو اپنے کانوں پر اعتبار نہیں۔ یہ سب کبھی کبھی مجھے یاد بھی کرتے ہیں لیکن مشینوں نے اِن سے احساس چھین لیا ہے۔ یہ اپنے قد سے نکل کر اپنے اصل سے کٹ گئے ہیں“۔