کیا کوئی کسی کے اندر نہیں جھانکتا؟ کیا سارے ہی سب سے اجنبی ہیں؟ کیا سارے اپنے آپ سے بیگانہ ہیں؟

کیا انجمن صرف تنہائیوں کا میلہ ہے؟ قہقہوں کے شور میں کوئی سسکیاں نہیں سُنتا۔  کیا ہنستے ہوئے چہرے سب نقلی ہیں،  سب لبادے ہیں؟ہمدم! تم کون سی دُنیا میں رہتے ہو۔ جہاں بِھیڑ ہے اور تنہائی ہے،  جہاں آرزوؤں کے طوفان میں لوگ ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ہیں۔  کیا سب لوگ سب کی تلاش میں ہیں؟ کیا کوئی کسی کی تلاش میں نہیں؟

تم کس فکر میں سرگرداں ہو؟ تم ہمہ وقت مصروف کیوں ہو؟ تمھیں کیا ہو گیا؟ تمہارے پاس وقت نہیں۔ کیا تم نے زندگی بیچ دی ہے اور اب تمہارے پاس اِس سے حاصل ہونے والا مال خرچ کرنے کا وقت بھی نہیں ہے۔ تم نے مکان بنایا اور اِس میں رہنے کا وقت نہیں تمہارے پاس۔  تم نے خوشی حاصل کرنے کے لیے دل بیچ دیا، اب خوشی کیسے محسوس کرو گے؟تمہارے پاس آسانیاں ہیں لیکن دل ہی نہیں۔  تم مشین بن گئے ہو —  ہمہ وقت مصروف،  جذبوں سے عاری، غم اور خوشی سے لاتعلق،  سب سے بیگانہ،  اپنے آپ سے بھی بیگانہ۔  یہ کیا انتشار ہے۔  یہ کس جُرم کی سزا ہے۔ بے کیف زندگی،  بے جان حرکات،  بے سمت سفر،  بے معنی تگ و دَو،  بے نام منزلیں،  بے امام مسافرت،  بے حضور قلوب،  بے نُور دیدے،  بے شعور اُلجھنیں،  بے سبب اندیشے،  بے وجہ دھڑکے،  بے نصیب کوششیں اور بے لگام وحشتیں!!

یہ دُنیا کہاں جا رہی ہے؟کچھ تم ہی بتاؤ، یہ سب لوگ کہاں سے آ رہے ہیں؟ کِدھر کو جا رہے ہیں؟آوازیں ہی آوازیں ہیں اور کچھ سنائی نہیں دیتا۔ بِھیڑ ہی بِھیڑ ہے اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔  آنا اور جا نا،  جانا اور آنا،  یہ سب کیوں ہے؟

اِنسان کماتا ہے تا کہ زندہ رہے اور زندہ رہتاہے تا کہ کماتا رہے۔ یہ کیا ہے؟تم اِس جہانِ رنگ و بُو میں کیسے گزر کر رہے ہو؟ تم نے شاید سوچنا چھوڑ دیا،  اچھا کیا۔  سوچنا بہت بڑی بیماری ہے۔ ایسی بیماری جس کا علاج نہیں ہے۔ سوچنے والے کو کبھی رات کو سورج نظر آتا ہے،  کبھی دن کو تارے نظر آتے ہیں۔  وہ ہر شے کو ایک اور زاویے سے دیکھتا ہے۔  سوچنے والا الفاظ کے معنی ہی نہیں،  معنی کے چہرے بھی دیکھتا ہے اور پھر اُن چہروں سے محوِ کلام ہوتا ہے۔  چہرے کے معنی اور معنی کے چہرے،  عجب بات ہے —  لیکن یہ کوئی بات نہیں۔  سوچنے والوں کی دُنیا،  دُنیا والوں کی سوچ سے الگ ہے۔ سوچنا اور ہر وقت سوچنا، ہلاکت ہے۔  تم نے اچھا کیا کہ تم سوچ سے نکل گئے۔ اب تم عمل ہی عمل ہو، بے وجہ اور بے نتیجہ عمل —  لیکن تم مصروف ہو۔  شاید تم مصروف رہنے کو کامیابی سمجھتے ہو۔  مصروف  —  ہمہ وقت مصروف،  مشین کی طرح، دریا کی طرح، چیونٹی کی طرح،  گردشِ افلاک اور گردشِ حالات کی طرح! تم سوچ میں وقت ضائع نہیں کر سکتے،  کیونکہ وقت قیمتی ہے اور اِس کی قیمت تم وصول کر چکے ہو۔ تمھیں حرکت دینے والی طاقت کا نام ضرورت ہے اور ضرورت کا پُجاری کثرت پرست ہوتا ہے۔  کثرت پرست کو سوچ، تدبر اور فکر مِل ہی نہیں سکتے۔  تم جس دُنیا میں ہو،  اس میں وہی کچھ ہے،  جو ہے۔

Pages: 1 2 3