خوش نصیب ہے وہ بوڑھا — جو حسرت و ندامت سے آزاد ہے، جو مطمئن ہے، پُرسکون ہے، آشنائے راز ہے، آگاہِ حقیقت ہے، محرمِ ہستی ہے، مکان و لا مکاں کے فرق کو جانتا ہے — جو قطرے اور قلزم کی وحدت سے آشنا ہے، جو لذّتِ وجود سے آزاد ہے اور ہوسِ زر سے بے نیاز ہے — جس کا حاصل کبھی لا حاصل نہیں ہو سکتا، کیونکہ اُس کا حاصل اُس کی خود شناسی ہے!! — اور جس نے اپنے آپ کو دریافت کر لیا، اُس نے سب کچھ ہی پا لیا!! — ہمیشہ ہمیشہ کے لیے — ہمہ حال صاحبِ حال ہو گیا!!