کچھ لوگ غصّے کو غم سمجھتے ہیں۔ وہ زندگی بھر ناراض رہتے ہیں، کبھی دوسروں پر،  کبھی اپنے آپ پر۔  انھیں ماضی کا غم ہوتا ہے، حال کا غم ہوتا ہے اورمستقبل کی تاریکیوں کا غم۔  یہ غم آشنا لوگ دراصل کم آشنا ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ گزرے ہوئے زمانے کا غم دل میں رکھنے والا کبھی آنے والی خوشی کا اِستقبال کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکتا۔ اُن کا غم اَمر بیل کی طرح اُن کی زندگی کو ویران کر دیتا ہے۔ یہ غم، غم نہیں، یہ غصّہ ہے یا نفرت ہے۔غم تو
دعوتِ مژگاں ساتھ لاتا ہے اور چشمِ نم آلود ہی چشمِ بینا بنائی جاتی ہے۔غم کمزور فطرتوں کا راکب ہے اور طاقتور اِنسان کامَرکَب۔

یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کچھ لوگ افسوس اور حسرت کو غم سمجھتے ہیں۔  ایسانہیں ہے۔ افسوس کوتاہئ عمل کا نام ہے، غلط روی کے احساس کا نام ہے۔ افسوس سے نکلنے کا راستہ”توبہ اور معافی“ کا راستہ ہے۔ حسرت، ناتمام آرزو کا نام ہے۔ یہ ایک الگ مقام ہے۔ آرزو اور اِستعداد کے فرق سے حسرت پیدا ہوتی ہے۔ آرزو جب اِستعداد سے بڑھ جائے،  تو حسرت شروع ہو جاتی ہے۔ با عزم انسان حسرت سے محفوظ رہتے ہیں۔ اِنسان اپنی پسند کو حاصل کر لے یا اپنے حاصل کو پسند کر لےتو حسرت نہیں رہتی۔

بہتر اِنسان وہی ہے جو دوسروں کے غم میں شامل ہو کر اُسے کم کر دے اور دوسروں کی خوشی میں شریک ہو کر اُس میں اضافہ کرے۔ اپنی صلاحیتوں کو محروم لوگوں کی خدمت کے لیے وقف کرنے والا غم سے نڈھال نہیں ہوسکتا۔ اگریہ بات مان لی جائے کہ غم شخصیت ساز ہے اور غم اُسی کی عطا ہے جس نے خوشی دی تھی، تو اِنسان کی زندگی آسان سی ہو جاتی ہے۔

اندیشوں کو بھی غم نہیں کہنا چاہیے۔ اندیشہ آنے والے زمانے سے ہوتا ہے۔  اگر حال پر نگاہ رکھی جائے تو مستقبل کے اندیشے کم ہو جاتے ہیں۔ اندیشہ ایک”ناسمجھی“       کا نام ہے۔  اندیشہ اُمّید سے ٹلتا ہے۔ اُمید، رحمت پر ایمان سے حاصل ہوتی ہے اور رحمت خالق کا عمل ہے، بلکہ خالق کا دعویٰ ہے کہ اُس کی رحمت اُس کے غضب سے وسیع ہے۔ وہ خالق جو اپنے محبوب کو رحمۃ للعالمینؐ بنا کر بھیجتا ہے، مخلوق پر غضب نہیں کرتا۔ لہٰذا ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ خالق کی طرف سے مخلوق پر ظلم کا اندیشہ محض وسوسہ ہے۔ خالق نے ہدایت بھیجی، پیغمبر بھیجے، سلامتی کے پیغامات بھیجے، رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائیں، مبارک صحیفے اور مقدّس کتابیں نازل فرمائیں،  اور سب سے بڑی بات اپنی رحمتوں کو رحمتِ عالمؐ کی ذات میں مجتمع فرما کر مخلوق کے لیے آسرا بنا کر بھیجا۔ سرکش و باغی اِنسان ہی اندیشوں میں مبتلا ہو کر غمزدہ و افسردہ رہتا ہے۔ جو لوگ اپنے نفس کے شر اور ظلم سے بچ گئے، وہ غم سے بچ گئے۔  اُن کے لیے بشارت ہے، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے شاداب و سرسبز جنّت کی۔  اندیشہ دُوری ہے اور اُمید خواہشِ تقرّب ہے۔ جس اِنسان نے اِستقامت اختیار کی، حقیقت کی راہ میں وہ مایوس نہیں کیا جاتا۔

سوچنا چاہیے کہ اِنسان اِس زندگی میں نہ کچھ کھوتا ہے، نہ پاتا ہے۔ وہ توصرف آتا ہے اور جاتا ہے۔ کیا حاصل اور کیا محرومی۔ کسی کا چہرہ کسی کی زندگی میں خوشی پیداکر جاتا ہے اور کسی کی زندگی میں غم دے جاتا ہے۔ یہ سب قدرت کے کھیل ہیں۔

Pages: 1 2 3 4