اللہ کے وعدے سچ ہیں۔  اللہ کے وعدے پورے ہو کر رہتے ہیں۔  ہم لوگ شب و روزکے حصار میں گھِرے ہوتے ہیں۔  ہم جلد باز اور جھگڑالو ہیں۔  ہم فوری طور پر اپنے اعمال کا نتیجہ چاہتے ہیں، لیکن اللہ کریم ہمیں مہلت عطا فرماتا ہے کہ ہم خود اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔  فوری نتیجے کی صورت میں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں عبرت سے دوچار ہونا پڑے۔  ابھی وقت ہے،  غنیمت ہے۔  توبہ کے ذریعے اپنی بد اعمالیوں سے نجات حاصل کی جائے۔  اللہ کا وعدہ ضرور پورا ہو کر رہتا ہے۔  مسلمانوں کے لیے عزت اور کشادگی کا وعدہ ہے۔  مسلمان اسلام سے محبّت اور وابستگی قائم رکھیں۔  یقین کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔  حالات کا بہتر ہوجانا اللہ کا وعدہ ہے،  پورا ہو گا۔

سیاست کے میدان میں بھی بڑے حسین و جمیل وعدے ہوتے ہیں۔ کامیاب سیاستدان وہی ہے جو وعدہ کرنے میں سخی ہو۔  ایک سیاستدان سے کسی نے پوچھا:” آپ نے اتنے وعدے کیے،  پورا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ “ وہ بولا:”ابھی ایک وعدہ باقی ہے۔ “ پوچھنے والے نے پوچھا: ”کیا ؟“ اس نے کہا کہ وعدہ پورا کرنے کا وعدہ تو ابھی کیا ہی نہیں۔  قصّہ مختصر یہ ہے کہ حزبِ اقتدار وعدہ کرتی ہے اور حزبِ مخالف وعدہ شکنی کا اعلان کرتی رہتی ہے۔  لوگ سنتے رہتے ہیں اور وقت گزرتا رہتا ہے۔

تخلیقِ پاکستان ایک وعدہ تھا — خدا کے ساتھ، مسلمانانِ پاکستان کے ساتھ، مسلمانانِ ہند کے ساتھ،  بلکہ مسلمانانِ عالَم کے ساتھ۔  یہی وعدہ ہمارا آئین ہے، بلکہ ہمارا دین ہے۔  اللہ کی زمین پر،  اللہ کے بندوں پر،  اللہ کے دین کا نفاذ ہی وہ وعدہ تھا جو پورا ہونا چاہیے۔  لوگوں کی زندگی بھی کامیاب بنائی جائے اور عاقبت بھی۔  غریب کو مایوس نہ ہونے دیا جائے اور اَمیر کو مغرور نہ ہونے دیا جائے۔  یہ وعدہ اُس وقت پورا ہو گا جب نہ کوئی مظلوم ہو گا، نہ محروم۔

بہر حال اگر ہم اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا عزمِ صمیم کر لیں تو معاشرے سے برائی ختم ہو سکتی ہے۔  ایک سرکاری ملازم جس کا وعدہ تنخواہ کے عوض کام کرنے کا ہے،  اپنی محنت یا خدمت کا معاوضہ رشوت کی شکل میں طلب نہیں کرے گا۔  وعدہ بہر حال وعدہ ہے۔

تنہائیوں میں کیے ہوئے وعدے جب پورے نہیں کیے جاتے تو عدالتوں میں ان کی تشہیر ہوتی ہے۔  ازدواجی زندگی کا سکون وعدہ خلافی کی وجہ سے برباد ہوتا ہے۔  محبّت کے رشتے طلاق کی تلوار سے کٹتے ہیں۔  یہ سب وعدوں کی عزت نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔  کاروباری زندگی میں وعدہ خلافیاں عدالتوں میں اذیّت ناک مراحل طے کرتی ہیں۔ قانون وعدہ شکنی کی الگ انداز میں سزا رکھتا ہے۔  اللہ کریم نے وعدہ خلافی کی الگ انداز میں سزا مقرر کر رکھی ہے۔

Pages: 1 2 3 4