ہم بوجھ اُٹھائے پِھرتے ہیں  — اپنا بوجھ، دوسروں کا وزن! آخرکہاں جانا ہے ہمیں؟ ہمیں اتنا معلوم ہے کہ ہم جلدی میں ہیں۔  ہم تیزی میں ہیں۔  ہم عجلت میں ہیں۔  ہمیں فوراً جانا ہے،  لیکن کہاں؟ بس یہی تو معلوم نہیں۔  ہم بہت مصروف ہیں۔  سفر ضروری ہے، مقصد ِ سفر سے آگہی ضروری نہیں ہے۔

ہم سوچ رہے ہیں کہ آخر ہمیں کیا کرنا ہے۔ سفر سے کیا حاصل ہے۔  سفر مسافروں کو کھا رہا ہے۔  راستہ راہ نوردوں کو نِگل جاتا ہے۔ منزلیں راستوں کو نِگل جاتی ہیں اور خود راستہ بھول جاتی ہیں۔  معلوم نہیں،  کس نے ہمیں گردشیں بلکہ غلام گردشیں دی ہیں۔  سفر پر روانہ کرنے والی فطرت ہم سے کیا چاہتی ہے۔  ہم بیچارے دے ہی کیا سکتے ہیں۔  محدود کا،   لامحدود سفر کیا رنگ لائے گا۔

پرندے اُڑتے ہی چلے جاتے ہیں،  فضائیں ختم نہیں ہوتیں۔  مچھلیاں تیرتی ہی چلی جاتی ہیں،  سمندر ختم نہیں ہوتا۔  یہ سفر کب سے ہے —  نہ ابتدا کی خبر ہے،  نہ انتہا کا پتہ۔  قطرے قلزم بنتے جاتے ہیں اور قلزم قطروں میں بٹتا جاتا ہے،  لیکن کسی کو کچھ خبر نہیں۔

بسیں،  گاڑیاں،  خلائی اور فضائی گاڑیاں،  جہاز، ہوائی اور بحری، سب متحرک ہیں۔  لوگ آرہے ہیں،  جا رہے ہیں۔  آنسوؤں سے الوداع ہے،  خوشی کے ساتھ خوش آمدید ہے۔  جانے والے بھی مسافر اور بھیجنے والے بھی مسافر۔  سب مسافر ہیں،  آہستہ چلنے والے،  تیز چلنے والے —  ہمیشہ سفر ہی سفر!

ایک نے دوسرے کا سامان چھین لیا۔ اُسے اُٹھایا،  لے بھاگا اور کچھ دُور جا کر وہ سامان پھینک دیا اور خود کسی نا معلوم سفر پر خالی ہاتھ روانہ ہو گیا۔  اُس نے سامان پھینکنا تھا،  تو چھینا ہی کیوں؟ زمینوں کو،  مُلکوں کو،  جاگیروں کو فتح   کرنے والے تیز رفتار شہسوار آخر زمین کی پہنائیوں میں غائب ہو گئے،  خاموش ہو گئے،  فراموش ہو گئے۔  ایسے،  جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔

Pages: 1 2 3 4 5