ہم سب پرانے ہونے والے ہیں۔ ہم یادیں لے کر چلے ہیں اور یادیں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ ہر پُرانی تہذیب اپنے زمانے میں نئی تھی اور ہر نئی تہذیب آنے والے دَور کی پُرانی تہذیب ہے۔ پُرانے مکان اور نئے مکان، ایک ہی مکان ہیں۔ پُرانے غم اور نئے غم، ایک جیسے ہیں۔ پُرانے آنسو اور نئے آنسو، یکساں ہیں۔ پرانا سفر اور نیا سفر، ایک ہی سفر ہے۔ پرانی منزل اور نئی منزل، ایک ہی منزل ہے۔ پُرانا اِنسان اور نیا اِنسان، ایک ہی اِنسان ہے۔ پُرانے زمانے اور نئے زمانے، ایک ہی شے کے نام ہیں۔ سورج وہی، سورج کی روشنی وہی، چاند وہی اور چاندنی وہی، سفر وہی انجام وہی، لیکن ہر شے بدل گئی ہے۔ سب کچھ بدل گیا۔ کون کہتا ہے کہ سب کچھ بدل گیا؟
سفر ختم نہیں ہوتا۔ تبدیلی اور تغیر بدلتے نہیں۔ مسافر کی اَنا قائم ہے۔ اِنسان سفر کا راز معلوم کرنا چاہتا ہے۔ مسافر اپنی بے بسی پر غور کرتا ہے۔ مجبوریوں کا جائزہ لیتا ہے، لیکن سفر ترک نہیں کرتا۔ اِنسان سمندر کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنے سفر کا راز پوچھتا ہے، اُسے موتی ملتے ہیں، سوال کا انعام ملتا ہے لیکن جواب نہیں ملتا۔ وہ پہاڑوں سے پوچھتا ہے۔ دیو ہیکل گونگے پہاڑ اِنسان کے سوال پر روتے ہیں۔ دریا آنسو بہاتے ہیں۔ ہوائیں چیختی ہیں کہ اِس سوال کو ترک کر دو۔ اِس کا جواب نہیں ہے۔ اِنسان خلا سے پوچھنے چلا ہے کہ یہ سفر کیا ہے؟ خلا وسیع ہے۔ اِنسان کی بات خلاؤں میں گم ہو جاتی ہے۔ سوال قائم ہے، جواب ندارد!
مسافر مایوس نہیں ہوتا۔ وہ راستے سے پوچھتا ہے، لیکن راستہ اُس کے سوال کو رستہ نہیں دیتا۔ وہ منزلوں کو پکارتا ہے۔ منزلیں اُس کی ہم سفر ہو جاتی ہیں، لیکن اِس سوال کا جواب نہیں دیتیں۔ مسافر ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں اور روتے ہیں کہ راستہ گم ہو گیا ہے۔ راستہ ساتھ ہی چل رہا ہے، مسافر بے خبر ہیں۔
مسافرفر یاد کرتا ہے: ”اے وہ کہ جس نے مجھے لمبے سفروں پر گامزن کیا ہے، جس نے مجھے نہ ختم ہونے والی تلاش دی ہے، تلاش کا مقصد تو بتا دے۔ “ — لیکن سنّاٹا ہے۔ کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ سفر جاری رہتا ہے۔ قافلے تھک جاتے ہیں، لیکن سفر جاری رہتا ہے۔ اِس سفر میں کوئی کسی کا ہمدرد نہیں۔ لاغر وجود کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور سفر جاری رہتا ہے۔ زمین سے چشمے اُبلتے رہتے ہیں اور آنسو نکلتے رہتے ہیں۔ یہ سفر بڑا طویل اور بڑا مختصر ہے۔ دو قدم کا فاصلہ ہے اور عمر بھر طے کرنا ہے، یہ فاصلہ۔ ہونے اور نہ ہونے کے درمیان ہی سب کچھ ہوتا رہتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کے پاس رہتے ہیں اور پھر اپنے بزرگوں کے پاس چلے جاتے ہیں۔ ہم جن کو رُخصت کرتے ہیں، وہی تو ہمارا اِستقبال کریں گے۔ یہ سب حیران کن بات ہے۔ اگر یہی کچھ ہے تو یہ ہنگامۂ سُود زیا ں کیا ہے؟ یہ سب رفتار کیا ہے؟یہ ترقی و ارتقاء کیا ہے؟ یہ علم و ادب کیا ہے؟ یہ جاہ طلبی و منصب پسندی کیا ہے؟ یہ حاصل و محرومی کیا ہے؟ یہ خیر و شر کے معرکے کیا ہیں؟ یہ گرمئ ر خسار و گرمئ بازار کیا ہے؟ اِنسان پوچھتا ہے، سوچتا ہے، تڑپتا ہے، جاگتا ہے، روتا ہے، اپنے سوال کا جواب مانگتا ہے۔ سفر پر بھیجنے والا نہ ملے تو جواب دینے والا کہاں سے ملے گا۔
سوچنے والی بات یہ نہیں کہ یہ سفر کیا ہے، اِس کا انجام کیا ہے۔ سوچنے والی بات تو یہ ہے کہ کون ہے، جس نے مجھے مسافر بنایا ؟ کون ہے، جو میرے ساتھ چل رہا ہے؟ کون ہے، جو مجھے بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے تک لاتا ہے؟ کون ہے، جس نے مجھے ذوقِ آگہی دیا؟ کون ہے، جو مجھے پکارتا ہے؟ — اور کون ہے جسے مَیں پکارتا ہوں؟منزلوں سے صدا دینے والا ہی منزلوں پر روانہ کرنے والا ہے۔ وہی سفر دیتا ہے، وہی شریک ِ سفر ہے، وہی منزل ہے، وہی نشانِ منزل۔ میرے سفر سے پہلے بھی وہی تھا اور میرے بعد بھی وہی ہو گا۔