مَیں خود ہی آخری سوال ہُوں اور خود ہی اُس کا آخری جواب۔ میرے لیے ہر حاصل محرومی ہے اور ہر محرومی حاصل۔ اب میں جانتا ہُوں کہ خوشی، غم دینے کے لیے آتی ہے اور غم، خوشی کا پیش خیمہ ہے۔
مَیں اُس بُڑھیا کے بارے میں بہت سوچتا ہوں، جس نے ساری عُمر سُوت کاتا اور آخر کو اُسے اُلجھا دیا۔ مَیں اُن محنتوں پر روتا ہوں، جو رائیگاں کر دی گئیں۔ مَیں اُس عابد کے بارے میں بھی متفکر ہوں، جس کو عبادت کے زعم نے محرومیاں عطا کیں۔ مَیں جانتا ہوں کہ مَیں کچھ نہیں جانتا، لیکن مغرور عالم کی عاقبت پر مجھے افسوس ہے۔ مَیں اُن کی حماقت پر حیران ہوں جن کے سر پر کتابوں کا گٹھا ہے اور جن کے دماغ اوردِل خالی ہیں۔
مَیں سوچتا ہوں کہ پہاڑوں کے دامن میں مٹی کس طرح آئی اور یہ کہ دریا رواں کیوں ہیں، سمندر ساکن کیوں ہے۔ آنکھ بنانے والا کتنا بصیر ہو گا اور کان بنانے والا کس طرح کی سماعت رکھتا ہو گا۔ مَیں تحیرّ میں ہوں کہ کسی درخت کا کوئی پتّا کسی پتّے سے نہیں ملتا۔ ہاتھی کو پیدا فرمانے والا چیونٹی کو کس طرح تخلیق کرتا ہے۔
مَیں اپنے دوسرے ”مَیں “ سے نجات چاہتا ہوں، لیکن اُس کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ وہ مجھے عجیب داستانیں سناتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ کائنات ایک راز ہے، گہرا راز۔ رنگ، آواز پیدا کرتے ہیں اور آواز کا رنگ ہوتاہے۔
عجیب کش مکش کا عالم ہے۔ سوچتا ہوں تو خیالات تھک جاتے ہیں۔ اِنسان دُنیا میں کیوں آتا ہے اور اگر آیا ہے تو جاتا کیوں ہے۔ مَیں سوچتا ہوں کہ لامکاں میں رہنے والا ہر مکان میں موجود کیسے ہے؟ اگر موجود ہے تو لامکاں کیا ہے؟