مَیں غور کرتا ہوں کہ اگر مَیں آزاد ہوں، تو مجبور کون ہے۔ میرا آنا اور جانا میرے بس میں نہیں، تو میرا ہونا کس کام کا؟مَیں حصارِ وقت کو توڑ سکتا ہوں، لیکن میرے گرد آرزوؤں کے پہرے ہیں۔ میری خواہشات مجھے جکڑ رہی ہیں۔ مَیں اپنی ملکیت کی ملکیت بن چکا ہوں۔ مَیں جسے چھوڑ نہیں سکتا، اُسے مَیں نے حاصل کیوں کِیاہے، اور مَیں جسے حاصل نہیں کرسکتا، اُس کا خیال چھوڑتا کیوں نہیں ہوں۔
عجیب مخمصے کا عالم ہے۔ کل تک مَیں تاریخ ساز تھا، آج مَیں تاریخ کا طالب علم ہوں۔ میری تاریخ جمود کا شکار کیوں ہے؟ اِس کے کچھ اوراق پھٹ گئے ہیں، اُن پر کیا لکھا ہُوا تھا، اب مجھے کون بتائے گا؟
مَیں سوچتا ہوں کہ وحدتِ ملّت اور تفریقِ ملّت میں کیا فرق ہے۔ مَیں سوچتا ہوں کہ دولت کی محبّت اِنسان کو بے حِس کیوں کر دیتی ہے۔ میرا بھائی جس کارخانے میں ملازم ہے، مَیں اُس کامالک ہوں، پھر بھی مَیں اُس کا بھائی ہوں۔ اُس کو چیتھٹروں میں دیکھ کر میرا قیمتی لباس جھُلس کیوں نہیں جاتا۔ مَیں بے بس ہوں، مجبور ہوں کہ مَیں اعلیٰ قسم کے کھانے کھاؤں اور بھائی اپنے کمزور نصیب پر صبر کرے۔
مَیں یہ بھی سوچتا ہوں کہ وہ لوگ کہاں ہیں، کرامات کا دعویٰ کرنے والے۔ میرے گردوپیش کیا ہو چکا ہے، کیا ہو رہا ہے۔ مجھے اپنے بارے میں فکر کیوں نہیں۔ دروازے بند کر لینے سے طوفان تھم تو نہیں جاتے۔ حقائق کو دیکھ کر تو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔
ایک طرف مہمانوں کی یلغار ہے، دوسری طرف گھر میں بھی وحدتِ فکر کم ہے، کیا بنے گا؟ گھر والوں کو ایک خیال میں اکٹھا کرنا ضروری ہے۔ بد نصیب لوگ ملک کو بدنصیب سمجھ رہے ہیں، خوش نصیب اِسے خوش نصیب کیوں نہیں بناتے؟