دنیا کے عظیم اِنسان اپنی نیند کوکم کرتے رہے۔  وہ نیند کو ایک دشمن سمجھتے رہے۔  اُنہوں نے اُس وقت محنت کی،  جب عالم سو رہا تھا۔  وہ نیند کو غفلت اور محرومی کا زمانہ کہتے تھے۔

دراصل نیند ہر اِنسان کے لیے الگ الگ مفہوم رکھتی ہے۔  نیند، عابد کو عبادت سے محروم کرتی ہے، محب کو محبوب سے جُدا کرتی ہے۔  ذمّہ دار اِنسان کو احساسِ ذمّہ داری نہیں ہونے دیتی۔  انسان پررازِ حقیقت منکشف نہیں ہونے دیتی۔  دوسرا رُخ یہ ہے کہ نیند گنہگار کو گناہ سے بچاتی ہے۔  پریشان حال اِنسان کی پریشانی کو چھپا دیتی ہے۔  بیمار اِنسان کو بیماری کے دباؤ سے بچاتی ہے۔  غرض یہ کہ نیند بُرے اِنسان کے لیے اچھی ہے اور اچھے کے لیے بُری!

عوام النّاس کے لیے نیند ایک دولت ہے، سرمایہ ہے،  عنایت ہے،  عطا ہے،  زندگی کے مُسلسل کرب سے نجات کا ذریعہ ہے۔  نیند غم، فکر،  اندیشوں،  ندامتوں اور اذیّتوں سے رہائی دلاتی ہے۔  نیند ہونے اور نہ ہونے کی ”درمیانی سرحد“       کا نام ہے۔  فنا اور بقا کے درمیان نیند کا علاقہ ہے۔  جہاں اِنسان نہیں ہوتا،  لیکن ہوتا ہے۔  جہاں وہ ہوتا ہے،  لیکن نہیں ہوتا۔  وہ دیکھتا ہے، لیکن خواب۔  وہ سنتا ہے، لیکن بے صدا آواز۔  وہ چلتا ہے، لیکن فاصلے طے نہیں ہوتے۔
وہ جمود میں متحرک ہوتا ہے۔  وہ مرتا ہے،  لیکن زندگی کی آغوش میں۔  وہ زندہ ہوتا ہے،  لیکن موت کے حصار میں۔  غرض یہ کہ وہ ہوتا ہے،  لیکن نہیں ہوتا۔  نیند حقیقت کو خواب اور خواب کو حقیقت بناتی ہے۔  نیند کے عالَم میں یہ جاننا کہ اِنسان نیند کے عالَم میں ہے،  بہت مشکل ہے۔ اِتنا مشکل جتنا اپنے مَن میں ڈوب جانا۔  خود شناس اِنسان اپنی نیند کو نیند کے طور پر پہچانتا ہے۔  وہ جانتا ہے کہ ہم کبھی بیداری میں سوتے ہیں، کبھی نیند میں بیدار ہوتے ہیں۔

زندگی خود ایک خواب ہے اور اِس خواب کے عالم میں کتنے ہی خواب ہیں۔  ماضی کی حقیقت خواب ہے۔  مستقبل کی حقیقت واہمہ ہے۔  حال برقرار رہ نہیں سکتا۔ نیند کی حقیقت کیا ہے؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔  بیداری کی حقیقت سمجھ میں نہ آئے تو نیند کی حقیقت کیسے سمجھ میں آ سکے!

نیند زندگی کا ایسا آئینہ ہے  جس میں موت کا عکس دکھائی دیتا ہے۔  نیند ایسی حقیقت ہے  جس میں خواب نظر آتے ہیں۔  خواب کو حقیقت مان لیا جائے تو تعبیر کی حقیقت ایک اور خواب بن کے رہ جاتی ہے۔  اقباؔل نے خواب دیکھا۔  قوم نے اقباؔل کے خواب کو حقیقت مان لیا اور پھر ہم تعبیروں کے سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔  خواب تو شاید ایک ہی تھا اور تعبیریں لاتعداد۔  خواب پریشان ہو کر رہ گیا۔  خواب کسی کا،  تعبیر کسی اورکی،  بات بنے تو کیسے بنے۔  یہی ایک راز ہے۔

Pages: 1 2 3