اِس سے اِنکار نہیں کہ نیند کا کرشمہ رویائے صادقہ کا وجود ہے۔  خواب دیکھنے والوں نے نیند میں آنے والے زمانے دیکھے۔  نیند میں اکثر محجوب،  مکشوف ہوتے ہیں۔  مکاشفہ،  نیند کا تحفہ ہے۔ مراقبہ بھی نیم خوابی کے عالم میں ہوتا ہے۔  اِس لیے نیند کو نعمت بھی کہا جاتا ہے۔  شاعر کا تخیل، صوفی کا وجدان،  مکاشفہ، عالَمِ بیداری کے علاوہ ہیں اور یہ عالَم نیند کے قریب ہے،  لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ جس اِنسان پر حقائق منکشف ہوں،  وہی اُن کی اصلیت سے باخبر ہو سکتا ہے۔  یہ نہیں کہ مکاشفہ کسی اور کا       ہو اور حقیقت کی دریافت کسی اور کی۔  تعبیروں کا اُلجھاؤ اِسی لیے ہے کہ خواب دیکھنے والا موجود نہیں۔  جب تک کوئی اور صاحب ِ ادراک نیا خواب نہ دیکھے گا،  تعبیروں کی تفاسیر مختلف ہی رہیں گی۔  جس کی نیند پر خواب نازل ہوں،  وہی تعبیر آشنا ہو سکتا ہے۔  اسی طرح قرآنِ پاک کی تفسیروں میں فرق ہے۔  نازل ہونے والی کتاب کی تفسیر بھی نازل ہونے والی ہو سکتی ہے۔  الہامی کتاب کی ذہنی تفسیر اَز خود غیر معتبر ہے۔

بہرحال نیند کی دنیا ایک عجیب دنیا ہے۔  ایک نیرنگ ِ خیال ہے۔  ایک طلسمِ ہو شربا ہے۔  ایک پُر اَسرار وادی ہے۔  ایک جزیرۂ امن ہے۔  ایک منظرِ دِلکشی ہے۔  ایک ایسا لطف،  جس میں اِنسان کسی کو شریک نہیں کر سکتا۔  ایک ایسا سرمایہ،  جو حاصل ہوتے ہی خرچ ہو جاتا ہے۔  ایک ایسا مقام،  جہاں ہر اِنسان بے ضرر ہو کے رہ جاتا ہے۔

فطرت کے عطیات میں سب سے بڑا عطیہ پُر سکون نیند ہے۔  مطمئن نیند کی قدر اُس سے پوچھو،  جس کو خواب آور ادویات کے سہارے درکارہوں۔  نیند صرف اِنسان ہی کے لیے نہیں،  پوری کائنات سوتی اور جاگتی ہے۔  وحوش و طیور سوتے ہیں۔  شجر و حجر سوتے ہیں۔  شمس و قمر،  آسمان و زمین پر نیند اوربیداری کا عالَم گزرتا ہے۔  سمندر سوتا ہے۔  سمندر جاگتا ہے،  اور سمندر کا جاگنا،  رُوح کا جاگنا ہے۔  نِصف شب کو سمندر کے اندر سے بیداری پیدا ہوتی ہے۔

سمندر کی طرح صاحبانِ رُوح نیم شب کو جاگتے ہیں۔ ہر مشکل مقام پر اُن لوگوں کو   آہ و فغانِ نیم شب کا پیام ملتا ہے۔ اُن لوگو ں کی بیداری ہی سونے والے اِنسانوں کے لیے رحم کی طالب ہوتی ہے۔ جاگنے والے سونے والوں کے لیے دُعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! اے ہمیشہ جاگنے والے اللہ! سونے والے اِنسانوں پر رحم فرما۔  اِن غافل اِنسانوں کو اپنے فضل سے محروم نہ کرنا۔  بیدار مغز اور بیدار رُوح اِنسان ہی قوموں کی نجات کا ذریعہ ہیں۔

قوموں کی تباہی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اِن سے نالۂ نیم شب چھِن جائے۔  جاگنے والے زندہ ہوں تو سونے والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ جاگنے والے نہ رہیں تو سونے والے بھی نہ رہیں گے۔  گڈریا سو جائے تو بھیڑیے ریوڑ کھا جاتے ہیں۔ نیند نے سربراہوں کو برباد کیا۔ سلطان سلطنت سے محروم ہو گئے۔ نیند میں سرمایۂ فقر لُٹ جاتا ہے۔ نیند کو غفلت نہ بننے دیا جائے تو یہ راحت ِ جان ہے،  قرارِ جسم اور سکونِ دل ہے۔  اگر نیند غفلت ہو جائے،  تو اِنسان محروم ہو جاتا ہے،  اپنے ماضی سے کٹ جاتا ہے،  اپنی اصل سے ہٹ جاتا ہے،  اپنی آزادی کی دولت ضائع کر دیتا ہے۔  آزادی کی صرف ایک ہی قیمت ہے — مستقل اور مسلسل بیداری۔  غلام قومیں سوتی ہیں اور آزاد قومیں بیدار رہتی ہیں۔  اِنسان کو اپنے مستقبل کی خاطر جاگنا چاہیے۔  اُسے آنکھیں کھول کر رہنا چاہیے۔  نیند اپنی حد سے نکل جائے تو عذاب ہے،  بیماری ہے۔ نیند غائب ہو جائے،  تو بھی مصیبت ہے۔  اِس لیے سب سے مُبارک زندگی وہ ہے،  جو نیند سے محروم بھی نہ ہو اور نیند سے مغلوب بھی نہ ہو۔  ہماری زندگی اور زندگی کے مشاغل کسی اور زندگی کے لیے ہیں۔  یہ زندگی ایک خواب ہے،  ایک نیند ہی کا عالَم ہے،  لیکن افسوس کہ اِنسان کی آنکھ اُس وقت کھلتی ہے،  جب وہ بند ہونے لگتی ہے۔

Pages: 1 2 3