جس طرح غم دِل کو کھاتا ہے اور دِل غم کو کھاتا ہے، اُسی طرح ہم وقت کو برباد کرتے رہتے ہیں اور وقت ہمیں برباد کرتا رہتا ہے۔ یہ کھیل کب سے شروع ہے، اِس کا فیصلہ کرنا مشکل ہے۔
وقت کیا ہے، اِس کا فیصلہ بھی مشکل ہے۔ ہم نے وقت کو شب و روز میں تقسیم کر رکھا ہے، موسموں میں بانٹ رکھا ہے لیکن یہ دِن، یہ رات، یہ گرمی، یہ سردی، یہ بہار، یہ برسات، سب سورج کے دَم سے ہیں، اور ماورائے شمس بھی کائنات ہے، بلکہ کائنات ہے ہی ماورائے شمس و قمر — اور جہاں نہ دِن ہے، نہ رات، وہاں بھی وقت ہے۔
وقت کب شروع ہوا اور کب ختم ہو گا — اِس کا فیصلہ بھی مشکل ہے۔ وقت قدیم بھی ہے اور حادث بھی — قدیم وہ ،جوہر آغاز سے پہلے اور ہر انجام کے بعد قائم رہے، جس کا نہ یومِ پیدائش ہو، نہ یومِ وصال — ! ہم خالق کو، اللہ کو قدیم مانتے ہیں اور وہ ہے بھی قدیم۔ کسی اور ذات یا کسی اور شے کا قدیم ہونا، خالق کی احدیّت کے باب میں شِرک ہے۔ حادث وہ، جو پیدا ہو اور ایک خاص محدود عرصہ کے بعد مر جائے۔
جو لوگ وقت کو قدیم مانتے ہیں، وہ وقت کو خالق ہی مانتے ہیں۔ جو لوگ وقت کو قدیم نہیں مانتے، وہ اِسے مخلوق سمجھ کر حادث اور فانی کہتے ہیں۔ وقت کو فانی ثابت کرنا مشکل ہے۔
حادث وقدیم کے بارے میں بڑی بحث ہوتی رہی ہے۔ اللہ قدیم ہے، انسان حادث — کوئی اِنسان جب قدیم نہیں ہوسکتا تو کسی اِنسان کی حیات بعد ممات بالوجود کیسے تسلیم ہو سکتی ہے۔ اِسی بات پر مسلمانوں کے اندر اختلاف رہا ہے۔ حیات النبیؐ کا مسئلہ یہی ہے۔