ہے قِدم حدوث سے ماورا
تو قِدم حدوث کا ہے گماں
ہے قِدم کا جلوہ حدوث میں
تو قِدم حدوث کی ضِد کہاں؟

بہر حال یہ اُن کی بات ہے،  وہی جانتے ہیں۔ قدیم حدوث سے باہر نہیں،  جدا نہیں،  نہ ہی قدیم حدوث میں پابند ہے اور نہ مبتلا ہے۔  ہر جلوہ قدیم کا جلوہ ہے لیکن کوئی جلوہ اَز خود قدیم نہیں۔  یہی حد ہے،  ادب کی حد — حفظِ مراتب کی حد،  عابد اور معبود کی حد — خالق اور مخلوق کی حد —  رازاور محرمِ راز کی حد — !

بہر حال ہم وقت کے بارے میں کچھ کہہ رہے تھے کہ وقت قدیم ہے کہ حادث،  اِس کا فیصلہ مشکل ہے۔

وقت کے لامحدود خزانوں سے ہمیں چند محدود ایّام ملتے ہیں۔  ہم اِس وقت کو زندگی کہتے ہیں۔  اِسے گزارتے ہیں خوشیوں کے ساتھ،  غم کے ساتھ،  محفلوں میں،  تنہائی میں،  محنت کے ساتھ،  آرام کے ساتھ۔ ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اِن ایّام کو ہم کیا کریں! مجبوری،  دیمک کی طرح ہماری زندگی کو چاٹ لیتی ہے،  گھُن کی طرح کھا جاتی ہے۔

ہم کچھ نہ کچھ بننا چاہتے ہیں،  بلکہ ہم سب کچھ بننا چاہتے ہیں اور سب کچھ بنتے بنتے،  ہم انجامِ کار بے وقوف بن کے رہ جاتے ہیں۔

Pages: 1 2 3 4 5