اہلِ تصوّف حضرات نے اپنے کلام میں بڑے بڑے عقدے کُشا کیے ہیں۔ ان کے سامنے کوئی معمولی نظارہ بھی معمولی نہیں۔ ہر شے ہی غیر معمولی ہے۔ پھول کھِلے تو وہ غور کرتے ہیں کہ پھول کی ہستی، کیا ہستی ہے۔ عجیب راز ہے۔ پھول کھلتا ہے، مرجھا جاتا ہے۔ چند لمحات کے لیے وہ مسکرایا اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نا معلوم دنیا میں چلا گیا — بس انسان کی زندگی پھول کی مسکراہٹ سی ہے۔ اِدھر آئے، اُدھر گئے — پھول اپنی زندگی پر کیا اِترائے گا، کیا فخر کرے گا!
گُوڑھی رنگت دیکھ کر پھول گمان بھئےکتنے باغ جہان میں لگ لگ سوکھ گئے
اہلِ باطن در اصل ظاہر کی اصل کو پہچانتے ہیں — ظاہر کی حقیقت معلوم کرنے والا دراصل اہلِ باطن ہے — باطن کوئی نئی دنیا نہیں، اِسی دنیا کا نیا شعور ہے …ماسواء میں ہی ماوراء کے جلوے ہیں۔ باطن شناس انسانی منشا میں خدائی منشا کو پہچانتا ہے — ” پِیلُو“چھوٹا، بہت چھوٹا جنگلی پھل سمجھ لیں — پِیلُو کا کھانااتنا پُر لطف نہی، جتنا پِیلُو چننا۔
پِیلُو چنتے چنتے انسان اپنا مقدّر چنتا ہے۔ اور پھر — ”ہکّا بکّا“ رہ رہ جاتا ہے کہ اُس نے کیا چاہا اور اُسے کیا مل گیا — پِیلُو چُنتے ہی یار آشنا ہو گیا — اور محبّت سے شناسائی ہوئی — محبّت فراق سے گزری — پِیلُو چننے والی سنگتیں جدا ہو جاتی ہیں — اور فراق — تھل ”سُنجا “ نظر آتا ہے… طالب وہیں روہی بیلے میں روتا رہتا ہے اور محبوب پِیلُوکی رُت کے ساتھ ہی غائب ہو جاتا ہے۔ جلوہ رخصت ہوا لیکن خیرہ آنکھ حیرت کے تھل میں گم ہو گئی — اُس نے کیا دیکھ لیا کہ پھر کچھ دیکھنے کی آرزو ہی نہ رہی — اُس نے کیا سن لیا کہ اب کچھ اور سننے کی تاب ہی نہ رہی۔ وصال آشنا، فراق کے دشت ِ بے اماں میں گُم ہو جاتا ہے — !
اور، پھر رُت بدلتی ہے، موسم آتے ہیں، پِیلُوپکتی ہیں اور اب پِیلُوکچھ اور ہیں، بہار کچھ اور ہے، وصال کچھ اور ہے، یار کچھ اور ہے، جلوہ کچھ اور ہے — اب وہ وصال ہے، جس کا فراق نہیں۔ وہ حاصل ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ فریدؒ کہہ اُٹھتا ہے کہ دنیا جس کو تلاش کرتی ہے، وہ تو فریدؒ کے پاس ہے — ہر دن، ہر آن، ہر رنگ، ہر انداز — مجاز حقیقت بن چکا ہوتا ہے۔ اب تھل، جل تھل ہو جاتا ہے۔