صوفیاء نے اپنے شعر کو عرفان رنگ بنا کر اُس سے وہ کام لیا،  جو بڑے بڑے علماء تقریروں سے نہ لے سکے۔  نعت کے چند اشعار انسان میں عشقِ نبیؐ  کے جلوے پیدا کر سکتے ہیں،  صوفیاء نے قلوب کو گرمایا، جلوہ آشنا کیا اور بندوں کو حق کے تقرّب سے آشنا کر دیا۔

اللہ بے مثل و بے مثال ہے۔  اسے کسی شے سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی —  بجا ہے،  درست ہے لیکن طالبانِ حق کو جب یہ سنایا جائے کہ:

ع        الف اللہ چنبے دی بوٹی،  مُرشد من وِچ لائی ھُو

یعنی اللہ ایک خوشبودار چنبے کی بوٹی ہے اور مرشد ہی مرید کے دل میں عشقِ الہٰی کا خوشبودار پودا لگاتا ہے —  بات سمجھ میں آتی ہے کہ توحید صرف علم ہی نہیں،  اِس علم کا کوئی عمل بھی ہے۔

  پیار کی فصلیں،  پیار کی  پِیلُوپکتے پکتے طالب کو واصل کر دیتی ہیں — عجب حال ہے!!

Pages: 1 2 3 4 5