مکان بنایا گیا— خوبصورت،بہت ہی خوبصورت— دیکھنے والے خوش ہو گئے۔
سوچنا پڑے گا کہ اگر دیکھنے والے خوش ہوں تو کیا اِس مکان میں رہنے والے لازمی طور پر خوش ہوں گے!
خوش کرنے والا ضروری تو نہیں کہ خوش رہنے والا بھی ہو— پھر یہ سب کیا ہے؟ ہم کیا کر رہے ہیں—؟ اگر ہم خوش ہوں تو لوگ خوش نہیں رہنے دیتے اور اگر لوگوں کو خوش رکھا جائے تو ہم — رہتے ہی نہیں،خوش کہاں سے رہیں گے!
کیا لوگ ہمارے مقدّر کا غیر معاون حصہ تو نہیں! ہر آدمی اپنے علاوہ گروہ کو لوگ کہتا ہے، خود بھی اُسی گروہ میں شامل ہے لیکن وہ خود کو شامل نہیں سمجھتا۔ خود کو کردار سمجھتا ہے اور دوسروں کو کردار کُش—! ہم سب ایک سمت کو چل رہے ہیں اور سب کا رُخ الگ الگ ہے۔ سب،سب سے نالاں ہیں— سب،سب سے اجنبی ہیں— سب،سب سے بیزار ہیں— سب،سب کے ہمراہ ہیں اور سب،سب سے جدا ہیں— سب کے سب مشکل میں ہیں اور سب کے سب بھاگ رہے ہیں اور کوئی کسی کو راستہ نہیں دیتا۔ سب بظاہر متحرک اِنسان ایک ظالم جمود اور تعطل کا شکار ہیں۔ سب بِھیڑ میں شامل ہیں اور سارے اکیلے ہیں۔ ہم سب اکیلے ہیں— اور اِس دنیا میں اکیلے لوگوں کے ہی میلے ہیں— سب سوچ رہے ہیں کہ آخر سوچ مفلوج کیوں ہے؟ کیا لوگوں کو نفرت سے محبّت ہے یا محبّت سے نفرت ہے؟ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ سب کو سب کی نظر لگ گئی ہے اور سارے منظورِ نظر بننے کے آرزو مند ہیں،لیکن کس کے— ایسا کوئی نظر نہیں آتا!! عجب حال ہے۔
ہمیں لا شعوری طور پر کسی شدید خطرے کا احساس ہے۔ ہم اِسی لیے بھاگ رہے ہیں،لیکن خطرہ کیا ہے یہ معلوم نہیں۔ خطرہ ہمارے پیچھے بھاگتا ہے— نہیں— خطرہ تو ہمارے ساتھ بھاگ رہا ہے— ہمارے ہمراہ ہے— ہمارے سامنے ہے۔ ہم اپنے لیے خود ہی خطرہ ہیں۔ ہم خود ہی اپنے محبوب ہیں اور خود ہی حاسد ہیں۔ ہم اپنے ہی سب سے بڑے دوست ہیں اور خود ہی سب سے بڑے دشمن!