ہم بڑے کرب میں ہیں۔ کرب ہمارے دَور کی سب سے قوی علامت ہے۔ ہم نے خود ہی ایک ملک بنایا اور خود ہی سوچ رہے ہیں کہ ہم نے اِسے کیوں بنایا!
ہم کہتے ہیں کہ ہم نے اِسے اِ سلام کے لیے بنایا—عجب بات ہے —صحیح بات ہے۔ بنانے والے مسلمان تھے۔ کتنے بڑے مسلمان تھے جنہوں نے ملک بنایا اور کتنا بڑا تھا اِس قافلے کا سالار —بڑا اور سچا مسلمان —لیکن کچھ اسلامی گروہ مخالف تھے۔ کون صحیح مسلمان تھا؟ بنانے والا یا مخالف —؟ کتنا اِسلام چاہیے پاکستان کو قائم رکھنے کے لیے —جتنا قائداعظمؒ کے پاس اِسلام تھا۔ اِس سے زیادہ یا اِس کے علاوہ اِسلام کی کیا ضرورت ہے؟ اگر ضرورت ہے تو قائداعظم ؒ کی اِسلام کے حوالے سے کیا افادیت ہے؟ اُس کا اِسلامی تشخص کیا ہے؟ ہمارے خیال میں وہ تشخص مکمل ہے،اسلامی ہے۔ پاکستان بنانے کی حد تک تو اسلام آج سے نصف صدی پہلے ہی موجود تھا،اب مزید موجودگی کیا ہے۔ غور طلب بات ہے پاکستان کی خاطر جان دینے والوں کا ایمان مکمل نہ ہو تو اُن کی موت شہادت نہیں ہے۔ اگر شہادت ہے تو وہ ایمان کامل ہو سکتا ہے۔ جس اِسلام نے وحدتِ عمل پیدا کی، وہی اِسلام برحق تھا۔ وحدتِ فکر اقبال ؒنے پیدا کی،اُس کا اِسلام برحق تھا۔ اب اور کیا چاہیے؟
جس بات سے قوم میں وحدت ِعمل پیدا نہ ہو،وہ اِسلام تو نہیں ہو سکتا—علماء صاحبان فیصلہ کریں— ورنہ کرب ِمسلسل رہے گا،لوگ اذیّت میں مبتلا رہیں گے۔ جس اِسلام نے مُلک بنایا،اب اُسی اِسلام سے ہی اِس کی بقا قائم ہو سکتی ہے! کچھ لوگ کہتے ہیں اور سچ ہی تو کہتے ہیں کہ قیامِ پاکستان جمہوریت کے لیے تھا۔ مسلمانوں کی اکثریت نے مُلک بنایا—بجا—درست — یہ اکثریت،ہندو اکثریت میں اقلیت تھی یعنی اقلیت کے اکثریتی فیصلے سے ملک بنا — عجب بات ہےاقلیت کا اکثریتی فیصلہ—بڑا طاقتور ہوتا ہے —خدا نہ کرے آئندہ بھی ایسا ہو — ممکن ہے ایسا ہی ہو! بہرحال کرب کا عالم ہے۔ صاحبانِ فکر بڑے کرب میں ہیں کہ جمہوریت کے داعی حکومت میں بھی ہیں اور جمہوریت کے پرستار سڑکوں پر بھی ہیں— اصل جمہوریت کے طالب کون ہیں؟ جمہوریت ہی جمہوریت ہے۔ کرب ہی کرب ہے۔ اللہ خیر کرے۔ اندیشے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
ہمیں ہر طرف سے خطرہ ہے۔ آخر کیوں ہے؟ ہمارا کیا قصور ہے؟ ہم ڈر رہے ہیں،ہم کیوں ڈر رہے ہیں؟ ہمیں ڈر سے نجات دلانے کے داعی خود تو نہیں ڈر رہے؟ نہیں نہیں،ایسے نہیں ہو سکتا—ممکن ہے ایسے ہی ہو،خدا کرے ایسے نہ ہو ! ! لیکن —لیکن کچھ نہیں—!!
ہم نے کامیابی کا معیار ہی غلط بنا رکھا ہے۔ ہم طاقت،شہرت،دولت،مرتبے کو کامیابی کہتے ہیں۔ کامیابی یہ تو نہیں۔ کیا ہم نے آخرت پر ایمان چھوڑ دیا—ممکن ہے ایسے ہی ہو — کامیابی مغرب کی تقلید میں نہیں—کامیابی تو اللہ کے حبیبؐ کے تقرّب میں ہے۔ ہم بھول گئے۔ شاید ہم خدا پر بھروسہ کرنے کے بجائے ووٹ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ووٹ گنتی کا نام ہے، وزن کرنے اور تولنے کا نام نہیں۔ جھوٹے لوگوں کے ووٹ سے سچا انسان کیسے آگے آسکتا ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ ووٹ کے بغیر سچا آدمی کیسے سامنے آسکتا ہے۔ صداقتیں شہید ہوتی رہتی ہیں—اب یہ سلسلہ ختم ہو جانا چاہیے۔ صداقت کے سرفراز ہونے کا وقت کب آئے گا ؟ آئے گا— ضرور آئے گا— لیکن کب— لیکن— کچھ نہیں۔خاموشی سے کرب برداشت کرتے چلو— بولنے سے بات اُلجھ جاتی ہے۔ بات کو اُلجھنا نہیں چاہیے،لہٰذا کرب بہتر ہے۔ اِسے اپنا نصیب سمجھ کر قبول کر لیا جائے— کیسے کریں؟ کرب ناک بات ہے۔
اللہ زمین اور آسمانوں کا مالک ہے۔ اُس کی مسجد کے لیے چندہ چاہیے؟ کلمۂ کفر ہے—لیکن ہے۔خدا ہمیں ہمارے شر سے محفوظ کرے۔ خدا ہمارے دل میں پیدا ہونے والے شبہات کو غرق کرے۔ کوئی ایسا سیلاب جو ہمارے اندیشوں کو بہا لے جائے— لیکن سیلاب— خدا کرے،سیلاب نہ آئے۔ سیلاب بُری شے ہے۔اندیشوں کے ساتھ ہی گزر کریں گے— آخر ہم عادی ہو چکے ہیں۔ ہم اندیشوں کی چادر بنائیں گے اور پھر اِس چادر کوتان کر سو جائیں گے۔ ہم خواب اور خیال کے پرستار ہیں۔ اے اللہ! ہمیں اچھے اچھے خواب دکھا— ہم حقیقت اور حقائق دیکھنے اور سوچنے کے کرب سے نجات چاہتے ہیں۔ یا اللہ! ہمیں نجات دے!!