وہ دن گئے جب بچوں کو سکولوں میں ”گلستان“ اور ”بوستان“ کی کہانیاں پڑھایا کرتے تھے اور نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ با اخلاق معاشرہ پیدا ہوتا تھا، اور آج جو کچھ ہو رہا ہے، ویڈیوز کی کہانیوں کا اثر ہے۔ جنسی تشدد اور دہشت گردی پہلے فلموں میں دکھائی جاتی ہے اور پھر سماج میں اسے دیکھا جاتا ہے۔ جب ذہن پختہ ہو جائے تو اِصلاح کا اِمکان کم ہو جاتا ہے۔
کہانی کے لیے ضروری ہے کہ اِس میں ایک مرکزی خیال ہو، مثلاً پاکستان کی کہانی میں مرکزی خیال اقبالؒ کا ہے۔ ایک مرکزی کردار بھی ہونا چاہیے، جیسے قائدِ اعظمؒ، ایک آغاز بھی ہو، جیسے ۱۹۴۷ء۔ا ِس میں ایک ماحول بھی ہونا چاہیے، ہمارا ماحول۔اگر اخبارات کچھ نہ بیان کریں تو کہانی میں ایک کلائمیکس بھی ہونا چاہیے۔ کلائمیکس یا نقطۂ عروج اُس مقام کو کہتے ہیں جس کے بعد یہ مقام نہیں رہتا۔ عروج ہمیشہ نہیں رہ سکتا۔ ہر حکمران اپنے دَور کو عروج کا نقطہ سمجھتا ہے، یہ جانے بغیر کہ عروج کے بعد زوال ہوتا ہے۔ شکر ہے پاکستان نے ابھی عروج حاصل کرنا ہے۔ ہم ابھی راہگزر میں ہیں۔
عروج کے حوالے سے ایک کہانی مشہور ہے۔ کہتے ہیں، کسی خطّے نے عروج حاصل کر لیا۔ یہ بہت قدیم زمانے کا ذکر ہے۔ مالک نے دیکھا کہ بندہ فطرت میں مداخلت کر رہا ہے، جبریل ؑ کو حکم دیا کہ بستی کو اُڑا دیا جائے۔ عزرائیل ؑسے نہیں، جبریل ؑسے کہا گیا۔ جبریل ؑنے عرض کی کہ اے مالک الملک! اجازت ہو تو میں اِن لوگوں کے علم کا معیار دیکھ لوں۔ اجازت مل گئی۔ وہ گئے اور ایک گڈریے کو دیکھا کہ وہ جنگل میں بھیڑیں چرا رہا تھا۔ جبریل ؑانسانی لباس میں اس کے پاس پہنچے اور بولے: ”بھائی کچھ حساب لگانا جانتے ہو“۔ وہ بولا: ”ہاں! لیکن بہت کم“۔ جبریل ؑنے کہا: ”حساب لگاؤ! اِس وقت جبریلؑ کہاں ہے؟“ گڈریے نے چھڑی سے ہی زمین پر دو چار لکیریں کھینچیں اور کہا:”آسمان پر تو نہیں ہے“۔ جبریل ؑنے کہا: ”مزید حساب لگاؤ“۔ اُس نے حساب لگایا اور بولا:”زمین پر بھی نہیں ہے“۔ جبریل ؑ نے مزید حساب کے لیے کہا۔ وہ بولا: ”بھئی! یا تم جبریل ؑ ہو یا مَیں— مَیں تو نہیں ہوں— بس تم ہی جبریل ؑہو“۔ اِس کے بعد بستی کو نابود کر دیا گیا۔
مولانا روم ؒنے کہانیوں کے روپ میں معرفت کے مسائل حل کیے۔ وہ علمِ باطن اور علمِ رُوح کے اظہار کے لیے کہانیاں لکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر شوق مر جائے تو انسان کے زندہ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ عشق کو مولانا ”طبیب ِ جملۂ علّت ہائے ما“ کہتے ہیں۔ اِن کی ہر کہانی پُرمغز و پُرسوز ہے۔ وہ درسِ باطن دے رہے ہیں اور کہانیاں بیان کر رہے ہیں۔ نکتے کھولتے چلے جاتے ہیں اور بات کی وضاحت ہوتی چلی جاتی ہے۔ اقبالؒ کو علم کا خزانہ پیرِ رومیؒ کے فیض سے حاصل ہوا۔ رومیؒ کہتے ہیں کہ مریضِ محبّت کو اگر چارہ ساز سے نسبت ِقلبی نہ ہو تو سب چارہ سازی حجاب ہے۔ محبوب کا ہاتھ ہی دست ِ شفا ہے۔ یہی عالم قوموں کا ہے۔ اگر قائد محبوب ہو تو ہر نسخہ شفا ہے، ورنہ بے تعلق ہجومِ چارہ گراں مرض کے اضافے کا باعث بنتا ہے۔ ہم لوگ چارہ سازوں کے چنگل میں ہیں۔ قائدین کے نرغے میں آ گئی قوم — خدا لیڈروں سے بچائے ! خدا لیڈر سے ملائے—!!
بہرحال کہانیاں تعلیم و تبلیغ کے لیے بھی موزوں ہیں اور عرفانِ ذات کے لیے بھی۔ سیف الملوک کہانی ہے، ایک شاہ زادے اور ایک پَری کی — لیکن یہ داستان ہے خود آگہی کی منزلوں کی، یہ سیر ہے وادیٔ حیرت کی، یہ بیان ہے فراق کے دَرد کا،بارگاہِ حسن میں دِل کی فریاد کا۔ میاں محمد صاحبؒ نے رنگ بھر دیے ایک فرضی کہانی میں۔ اِس میں قدر دانوں اور قدر شناسوں کے احسانات کا ذکر ہے، محسنوں کا فیض ہے اور شکر کا اظہار کہ
ع مَیں گلیاں دا رُوڑا کُوڑا، محل چڑھایا سائیاں
یعنی سخی نے ہمیں کیا سے کیا کر دیا— ! گلیوں سے نکال کر مَحلوں میں بٹھا دیا — وہ اگر چاہے تو قطرہ بھی سمندر ہو جائے۔ بڑے عرفان کی داستان ہے، بڑے درجے کا بیان ہے—کہانی ہے— لیکن معرفت کی داستان!!