کہانی کہانی کے روپ میں اصل کہانی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم داستانیں سنتے سناتے کہیں خود بھی کسی داستان کا حصہ نہ بن جائیں۔ ہمیں ہر لمحہ بیدار رہنا چاہیے۔ ہمارے ہاں بھی بڑے جادو بیان داستان گو موجود ہیں۔ غریبوں کو اَمیر ہونے کا     کاذب مژدہ سنانے والے داستان گو، غریبی میں مزید اضافہ کرکے رخصت ہو جاتے ہیں اور غریب دیکھتا رہ جاتا ہے— بیچارہ! آسمانوں کے تذکرے سنتے سنتے انسان بھول جاتا ہے کہ اُس کے پاؤں زمین پر ہیں۔

حضرت داتا گنج بخشؒ نے بھی بہت سی کہانیاں لکھی ہیں۔ اُن کے اپنے انداز ہیں۔ وہ توحید، رسالت اور عرفان کے بارے میں وضاحتیں دینے کے لیے کہانی پیش کرتے ہیں، مثلاً ایک دفعہ انہوں نے اپنے شیخ سے پوچھا:”جناب توحید کیا ہے؟“  شیخ نے کہا: ”پھر کبھی بتاؤں گا“۔  کچھ ہی دنوں بعد سفرِ حج کا آغاز ہوا۔ دورانِ سفر ایک دن نمازِ ظہر سے فارغ ہوکر یہ لوگ بیٹھے ہی تھے کہ مغرب سے ایک سوار آیا۔ داتا صاحبؒ کے شیخ     نے تعظیم کی، استقبال کیا۔ آنے والے نے کان میں کچھ کہا، لیکن شیخ نے معذرت ظاہر کی۔ سوار واپس چلا گیا۔ داتا صاحبؒ نے پوچھا: ”سرکار! یہ کون تھے؟“ انہوں نے کہا:”یہ تیرے سوال کا جواب تھا کہ توحید کیا ہوتی ہے“۔

داتا صاحبؒ نے وضاحت کی اِلتجا کی۔ شیخ نے کہا: ”یہ خضرؑ تھے۔ کہتے تھے کہ اگر مناسب سمجھو  تو میں تمہارے ساتھ حج کے سفر کے لیے ہمراہی اختیار کروں۔ میں نے کہا، نہیں— کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں حج کے خیال سے غافل ہو کر تمہارے خیال میں مصروف ہو جاؤں“۔ بس توحید یہی ہے کہ وحدت ِ مقصد قائم رہے۔ ایک مقصد سے دوسرا مقصد نہ نکالنا چاہیے،  خواہ دونوں مقاصد ہی نیکی کے ہوں۔ نیکی اور ہے،  توحید اور — !!

ایک اور کہانی بھی آپؒ نے لکھی۔ ایک سفر میں داتا صاحبؒ اپنے چند ساتھیوں سمیت سفر پر روانہ تھے۔ حج ہی کا سفر تھا۔ ایک آدمی کو قافلے کا اَمیر بنا دیا گیا تھا۔ راستے میں قزاقوں نے سب قافلے کو روک لیا اور اپنے سردار کے رُوبرو پیش کر دیا۔ سردار نے کہا: ”جو کچھ ہے،حاضر کر دو“۔ سب نے سب کچھ حاضر کر دیا۔ سردار نے پھر کہا:”اِن سب کی تلاشی لو—“ تلاشی لینے پر اَمیرِ قافلہ کے پاس خفیہ جیب میں سے کچھ اشرفیاں برآمد ہوئیں۔ ڈاکوؤں کے سردار نے حکم دیا کہ اِسے قتل کر دیا جائے۔ داتا صاحبؒ نے مداخلت کی اور کہا: ”یہ نہیں ہو سکتا، وہ ہمارے اَمیرِ قافلہ ہیں، ہم یہ برداشت نہیں کریں گے“۔  سردار نے کہا: ”عجیب آدمی ہو —  یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سچے آدمیوں کا اَمیر جھوٹا ہو—   اسے چھوڑ دو، واپس جانے کے لیے، اور تم اپنا سفر جاری رکھو۔ ہم لوگ ڈاکو نہیں ہیں، ہم تو سرکاری ڈیوٹی والے لوگ ہیں۔ دودھ پانی الگ کرنے والے، حاجیوں کو توکّل کی منزل عطا کرنے والے۔ آئندہ یاد رکھنا، سالارِکارواں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صادق ہو،امین ہو۔جھوٹے سالاروں نے ہی تو ملّت کا بیڑہ غرق کر رکھا ہے“۔

جہاں کہانیوں نے باطن روشن کیے ہیں، وہاں کہانیوں نے ہی فسادات پھیلائے۔ ملّت ِ اسلامیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں کہانیوں کا حصہ ہے۔ مثلاً ایک دفعہ ایک آدمی نے دوسرے سے پوچھا : ”بھائی! آپ نے وہ کہانی سنی ہے؟“ دوسرے نے کہا: ”نہیں بھائی! میں نے دُوسری کہانی سن رکھی ہے“۔ بس کہانی ختم ہو گئی،لیکن یہ کیا کہانی ہوئی؟ یہی تو بڑی کہانی ہے کہ ایک آدمی نے ایک کتاب پڑھ لی، وہ ایک فرقہ بن گیا،دوسرے نے دوسری کتاب پڑھ لی، وہ دوسرا فرقہ بن گیا۔ جس نے جو کتاب پڑھ لی، وہ الگ فرقہ بنتا چلا گیا۔ کہانیاں جاری ہیں اور فرقے بننے کا   کام بھی جاری ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے۔ ہم ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک کلمے سے آغاز کر رہے تھے اِسلام کا۔ اب تھوڑے ہی عرصہ کے بعد بن گئے ستّر فرقے۔ کس نے بنائے؟ کون ہے ہم میں سے جو امام حسین ؑکے قافلے میں موجود تھا اور کون ہے جو یزید کے ساتھ موجود تھا؟ ہم سب ناموجود تھے اور کہانیاں جنم لے رہی تھیں۔ قلم چل رہے تھے اور صداقت قلم ہو رہی تھی۔ فرقہ پرستوں کی کہانی درمیان سے شروع ہوئی، اور اسے درمیان میں ہی ختم کر دینا چاہیے۔

یہ بہت کافی ہے کہ ہم کلمۂ توحید کی مرکزیت پر یقین رکھتے ہوئے ملّت ِ واحدہ ہو جائیں۔ پاکستان کی کہانی جو اقبالؒ کی بلند خیالی سے شروع ہوئی ہے، اسے بلند اقبالی حاصل ہونا چاہیے — ورنہ—؟  ورنہ کچھ نہیں!!

Pages: 1 2 3