انسان عجب مخلوق ہے— سوچتا ہے—عمل کرتا ہے اور عمل کے عین دوران میں پھر سوچتا ہے اور اپنے عمل پر نظرِ ثانی کرتے کرتے اپنی اُس سوچ پر بھی نظرِ ثانی کرتاہے جس کے تحت سفر کا آغاز کیا تھا۔یہ کھیل جاری رہتا ہے،آری کے دندوں کی طرح —  اور انجامِ کار یہ سوچ دَر سوچ کی آری افراد کو اور قوموں کو کاٹ کے رکھ دیتی ہے — جذبے سرد پڑ جاتے ہیں— سفر کی لذّت ختم ہو جاتی ہے—عمل سے حاصل ہونے والی عزتِ نفس، ندامت میں بدل جاتی ہے اور سفر بند ہو جاتے ہیں— قافلے پڑاؤ پر پڑے رہتے ہیں۔منزل سے محروم، بددل مسافر ایک نئی سوچ میں پڑ جاتے ہیں اور نئی بستیاں بسانے کے دَر پے ہو جاتے ہیں — گھر چھوڑ کر سفر پہ نکلے اور مسافرت میں منزلیں فراموش کر کے نئے گھر بنانے شروع کر دیتے ہیں۔

کل کی سوچ کو غلط سمجھ کر انسان آج کی سوچ پر ناز کرتا ہے — آنے والے کل میں یہ سوچ بھی غلط ہو سکتی ہے۔ بس تذبذب کے اِس مقام کو ہی آدھا رستہ کہتے ہیں —  واپس جانا  ناممکن ہوتا ہے — آگے جانے کی ہمت نہیں ہوتی— یہی زوالِ ملّت ہے کہ مقصد ہی بھُول جائے اور مقصد نہ رہے تو سفر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا— انسانی عقل راستوں میں رہ جاتی ہے۔ منزل پر پہنچانے والی کوئی اور سوچ ہے —  وہ دانشِ نورانی ہے—  وہ علم ِ آسمانی ہے —  وہ فیصلہ کسی اور طرف سے آتا ہے۔

انسانی سوچ کو تذبذب سے بچانے کے لیے پیغمبرؐ تشریف لائے اور لوگوں کو بتایا کہ یہ عارضی اور فانی سوچیں ہیں — اصل بات خدا کی بات ہے —  اور اصل سفراطاعت کا سفر ہے جسے منزل نصیب ہوتی ہے۔ابلیس نے اطاعت نہ کی— اُس نے غرور کیا،تکبّر کیا۔اُس نے سوچا کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ مٹی سے بنے ہوئے آدمؑ کو سجدہ کیا جائے،جبکہ وہ نار سے پیدا ہوا  —  یہی سوچ کا زوال ہے۔آدھے رستے کا مسافر ابلیس تھا—مقرب تھا،معتوب ہو گیا، رجیم ہو گیا۔جب سوچنے کے بعد کوئی فیصلہ کر لیا جائے تو اللہ پر بھروسہ کر کے منزل پر ہی ڈیرے ڈالنے چاہییں — یہی کامیابی ہے۔ بد نصیب ہیں وہ مسافر جو آدھے سفر کے بعد ذوقِ سفر سے محروم ہو جائیں۔مقصد فراموش قومیں اور افراد آدھے رستے پر رُک جاتے ہیں۔

  بعض اوقات ہم اکثریت کے فیصلے پر سفر اختیار کرتے ہیں۔یہ سفر بھی مشکوک ہوتا ہے۔ اکثریت متلوّن ہو سکتی ہے،بے خبر ہو سکتی  ہے،بے علم ہو سکتی ہے،غافل ہو سکتی  ہے، آرام پرست اور آرام طلب ہو سکتی     ہے۔جہاں اکثریت کاذب ہو، وہاں صداقت کا سفر کیسے ہو سکتا ہے! اگر  فیصلہ منافقین کی اکثریت کے حوالے کر دیا جائے، تو بھی فیصلہ غلط ہو گا۔ اللہ نے بیان فرمایا: ”جب منافقین رسولؐ  کے پاس آ کر کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپؐ  اللہ کے رسول ہیں،  توبے شک  اللہ  جانتا ہے کہ آپؐ  اُس کے رسول ہیں  لیکن  اللہ گواہی دیتا کہ یہ منافقین ضرور جھوٹے ہیں“ ۔

 یعنی جھوٹے لوگ سچ بولیں تو بھی جھوٹ ہے، وہ کوئی صحیح فیصلہ کریں تو بھی غلط ہے —  وہ کسی صحیح منزل کی نشاندہی کریں تو بھی نتیجہ غلط ہوگا — سچ وہ، جو سچے گروہ کا فیصلہ ہو۔سچی اقلیت  کاذب اکثریت سے بہت بہتر ہے۔ محض اکثریت پر مبنی سب فیصلے قابلِ غور ہیں۔ جب تک سچے لوگوں کی اکثریت نہیں ہوتی، جمہوری فیصلے غلط ہیں۔  سربراہ، امیر المومنین ہونا چاہیے — امیر الکاذبین اور امیر المنافقین، ملّت پر عذاب کے نزول کا باعث ہو سکتے ہیں۔ جھوٹے کے مقدّر میں آدھا رستہ ہے — جھوٹے راہی کی منزل آدھا رستہ ہے۔ صداقت کی منزلیں صادقوں کے لیے ہیں۔بعض اوقات ”امیر“ کی صداقت قوم میں صداقت ِفکر پیدا کر دیتی ہے۔

Pages: 1 2 3