غریبوں کو نان و نفقہ کے مسائل اور مراحل سے آزاد کروایا  جائے — اُن کی زندگی میں اُمّید کی شمع روشن ہونی چاہیے—  اُنہیں مایوسی کی تاریکی سے نکالنا چاہیے تا کہ وہ بھی وطن پرستی کے عظیم مقصد اور سفر میں شامل ہوں۔ اَمیروں سے پیسے کی محبّت  نکال لی جائے — اُنہیں مال کی نمائش کا موقع نہ دیا جائے — اُن کی شادیوں کو اسلامی رنگ میں ڈھالا جائے — اُنہیں ایک سادہ زندگی کا شعور دیا جائے تا کہ وہ بیچارے بھی حصولِ منزلِ ملّت کے عمل میں شریک ہو سکیں —  ورنہ آدھے راستے کی بد قسمتی سے بچنا مشکل ہو گا۔  یہ سب کا سفر ہے، سب کے لیے — یہ سب کا مقصدہے،  سب کے لیے —  یہ سب کا ملک ہے،  سب کے لیے —یہ سب کے وسائل ہیں،   سب کے لیے — غور کِیا جائے۔ اللہ آسانیاں پیدا کرے گا۔جس مقصد کے لیے یہ ملک بنایا  تھا — یاد تو ہے؟اگر یاد ہے —   تو حاصل کرنے میں کیا دیر ہے!!

 کیا اب اکثریت سے پوچھا جائے گا کہ اِسلام کیا ہوتا ہے؟— اِسے کیسے حقیقی معنوں میں نافذ کیا جا سکتا ہے؟یہ بات خدا سے پوچھی جائے،قرآن سے معلوم کیا جائے،اللہ کے رسولؐ  کے فرامین سے روشنی حاصل کی جائے،گردشِ لیل و نہار پر نگاہ رکھنے والے بیدار رُوح اِنسانوں سے رجوع کیا جائے— وحدتِ عمل اور وحدتِ کردار کا پھر سے پیدا ہونا مشکل نہیں ہے۔صاحبانِ اقتدار صادق ہو جائیں، ہر طرف صداقت ہی صداقت ہو جائے گی۔ شکر ہے کہ بہت کچھ ہو رہا ہے لیکن ابھی اور بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ قافلہ آدھے رستے میں ہی تھک کر سستا رہا ہے — جاگو اور جگاؤ —!! وقت انتظار نہیں کرتا — مواقع اپنے آپ کو دہراتے نہیں۔  مرتبے اور آسائشیں ملتی ہیں کہ اپنے آپ کو خوش نصیب بنایا جائے۔

خوش نصیب بننے والا سب کو خوش نصیبی عطا کرے۔قافلہ بد دل ہو گیا ہے — اِس کی تکالیف کا اَزالہ کیا جائے، اِسے گلِے اور تقاضوں سے نجات دی جائے۔ یہ قوم جاگ گئی تو قوموں کی اِمامت کا فریضہ اِسی کو سونپا جائے گا۔حال کی خوشحالی میں مست ہو کر مستقبل کے فرائض فراموش نہ ہوں۔  وہ وقت قریب آ پہنچا ہےجب اقبالؒ کے خواب کی تعبیر میسّر ہو — قائداعظمؒ   کی محنت کا صلہ حاصل ہو — قوم کے لیے شہید ہونے والوں کی روحوں کو قرار نصیب ہو — ہم منزل فراموش نہ ہوں تو آنے والی نسلیں ہمیں عزت سے یاد کریں گی۔

    اپنی لاڈلی اَولاد کے لیے پیسہ جمع کرنا ہی مقصد نہیں ہے۔ اگر اَولاد نے مفت حاصل ہونے والا مال گناہ میں لگایا تو اِس گناہ کی سزا  پیسہ مہیا کرنے والوں کو بھی ملے گی۔ اگر اَولاد کو تصوّرِ پاکستان سے متعارف نہ کروایا گیا، شعورِ عظمتِ اسلام کی تعلیم نہ دی گئی تو خدا نہ کرے ہمارے لیے”آدھے رستے کے مسافروں“ کا طعنہ ہو گا۔  خدا ہمیں اس عذاب سے بچائے — ہم عظیم قوم ہیں — ہمیں عظیم تر ہونا چاہیے — یہ ملک خدا کا ہے — خدا کے رسولؐ  کا ہے — اُنہی کی منشا کے مطابق چلنا چاہیے!!

Pages: 1 2 3