خیال کی اصل پہچان تو خیال دینے والے کو ہو سکتی ہے۔ خیال کی تخلیق وہی ذات فرماتی ہے جو اِنسان کو پیدا کرتی ہے۔خیال اِنسانوں کی طرح پیدا ہوتے رہتے ہیں، اچھے بُرے، لیکن تربیت اور نصیب سے یہ ممکن ہے کہ ہم اچھے خیال حاصل کریں اور اُن کو عمل کی تقویّت دے کر اُن کے ساتھ اور اپنے ساتھ عدل کریں۔عادل کے لیے اپنے خیال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ وہ اپنے دِل کے دروازے پر دربان بن کر بیٹھ جائے تا کہ خیالات کے آنے اور جانے کا علم ہو، اور یہی عدل کا تقاضا ہے۔

 اپنی پاکیزہ لائبریری میں غیر پاکیزہ کتاب کا نہ رکھنا ہی عدل ہے، اور دوستوں کی فہرست میں کوئی ایسا نام نہ آنے پائے جو کسی طرح بھی عدل کی راہ میں رکاوٹ بننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ خیال کے عادل کے لیے ضروری ہے کہ وہ نگاہ کا عادل بھی ہو۔ اُس شخص کی نظر عادل ہوسکتی ہے جو حقوق اور حدود سے آشنا ہو۔اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ اپنا کیا ہے اور پرایا کیا ہے؟ اُس کے پاس پہچان ہونی چاہیے کہ جو چیزیں گھر میں استعمال ہو رہی ہیں، وہ کہیں دفتر کی تو نہیں۔ جو پیسہ وہ استعمال کر رہا ہے، وہ کسی دوسرے اِنسان سے غلط بیانی کر کے تو حاصل نہیں کیا گیا۔ نگاہ کا عدل بڑا قوی ہے۔ نگاہ کا عادل وہ ہے جسے دوسرے کی بیٹی میں اپنی بیٹی نظر آئے، اور جسے اپنے  حق سے زیادہ لینے والے بیٹے سے پہلے، دوسروں کے  حق سے محروم بیٹوں کا خیال آئے۔ صاحبانِ اقتدار کے لیے نگاہ کا اِنصاف بہت مشکل ہے اور اگر کہیں نگاہ عادل ہو جائے تو بس پھر بیڑہ ہی پار ہو جائے۔

 زبان کا عدل بھی بہت ضروری ہے۔ ہم کیا کہہ رہے ہیں، کیوں کہہ رہے ہیں، کس کے بارے میں کہہ رہے ہیں، کس سے کہہ رہے ہیں، یہ جاننا ضروری ہے۔ کلام کے پیچھے کلیم کی شخصیت ہوتی ہے۔ اللہ کا کلام کسی اور کے کلام کے مقابلے میں اُتنا   ہی بڑا ہے، جتنا اللہ تعالیٰ خود۔ اِسی طرح پیغمبرؐ کی بات کو باتوں کی پیغمبر سمجھو۔ عدل یہ ہے کہ کلام کو کلیم کی عظمتوں کے حوالے سے سمجھو، ورنہ یہ تو عام مشاہدہ ہے کہ میٹھی زبانوں میں تقریر کرنے والے سماجی زندگی کی شریانوں میں زہر گھول رہے ہیں۔ عجب بات ہے کہ لوگ سیاست میں معمولی مقام حاصل کرنے کے لیے قرآن بولتے ہیں، حدیث بولتے ہیں، اقبالؒ اور رومیؒ بولتے ہیں، فصاحت و بلاغت بولتے ہیں اور مقصد؟— ووٹ! عدل کیا  ہے؟— قابلِ غور ہے!!

  فصیح البیان نظر آنے والا مرتبے کا لالچی اِنسان دراصل فصیح البیان نہیں۔ یہ آدمی عادل نہیں۔ یہ دوسروں کے مضامین یاد کر کے اپنے بنا کر پیش کرتا ہے اور یہی بات عدل کے خلاف ہے۔ اِس سے زیادہ عدل دشمنی کیا ہو سکتی ہے کہ ایک آدمی دوسروں کے لکھے ہوئے الفاظ اپنی کتاب، اپنے ڈرامے اور اپنی تقریر میں ایسے استعمال کرتا ہے جیسے یہ اُس کا پیدائشی حق ہے یا جیسے وہ چوری نہیں کررہا، عزت افزائی کررہا ہے۔ تعلق کی اور بات ہے۔ اپنوں کی چیزیں اپنی ہی ہوتی ہیں۔

بہرحال ہمیشہ سچ بولنے والی زبان ہی مشکل کے لمحات میں سچ بولے گی۔ہمیشہ عدل کرنے والے، گفتگو میں عدل قائم رکھنے والے، اپنے فیصلوں میں ضرور عدل کریں گے۔  منصف کے لیے عدل کسی  فیصلے کا نام نہیں، عدل زندگی کا نام ہے۔ اُس کی زبان ہمیشہ عدل بولتی ہے۔ گھر ہو یا عدالت، وہ ضرور عدل کرتا ہے۔

 اگر سیاست میں عدل آ جائے تو یہ ملک کہاں سے کہاں ترقی کر جائے۔ سیاسی بزرگ عدل کے بزرگ نہیں ہوتے۔ سیاست میں سب کچھ جائز ہے اور یہی بات عدل میں ناجائز ہے۔ ہم اپنے نظامِ عدل کو خدائی نظامِ عدل کے مطابق بنائیں، نہ کہ خدائی نظامِ عدل کو اپنے تقاضوں کے مطابق!!

Pages: 1 2 3