عدل اور میزان کا صحیح میدان تو میدانِ حشر ہی ہو گا،لیکن اس میدان میں اُترنے سے پہلے ایک نکتہ قابلِ غور ہے۔  عدل  کا حکم دینے والی ذات،  عدل  کے علاوہ بھی مسائل کے حل کا ایک انداز عطا فرما تی ہے۔ عدل کرو، بڑی اچھی بات ہے لیکن اگر فضل کرو  تو بہت ہی اچھا۔  اللہ ہی کا ارشاد ہے کہ میری رحمت میرے غضب سے زیادہ وسیع ہے۔ غضب تو یہ ہے کہ اِنسان کو اُس کے عمل کی عبرت کے حوالے کر دیا جائے، لیکن فضل کہتا ہے کہ اسے معاف کر دیا جائے۔ رحمت ہوتی ہی ہے، اعمال کی عبرت سے  بچانے کے لیے۔ اگر اعمال کے ساتھ صرف انصاف ہی ہونا ہے تو پھر رحمت کیا ہے؟

 اِنصاف یہ ہے کہ جب معاشرہ باغی اور مجرم ہو جائے تو اُسے تباہ کر دیا جاتا ہے۔ پرانی اُمتیں اِسی طرح نیست و نابود ہو گئیں۔کسی کو آواز نے آ لیا، کوئی آندھی کی زَد میں آ گیا، کسی کو رعد، کسی کو برق کا عذاب دیا گیا، کسی کو زمین نگل گئی اور کسی کو آسمان کھا گیا، لیکن عرب کا معاشرہ اسلام سے قبل تمام خامیوں کے باوجود تباہ نہیں کیا گیا۔ اللہ مالک ہے عدل کا، فضل کا۔ اُس نے خیال کیا، چلو اِس معاشرے پر رحم بھیج دیا جائے، بلکہ اِن پر رحمۃ للعالمینؐ کو بھیج دیا جائے۔ پس وہ معتوب معاشرہ مقبول معاشرہ بنا دیا گیا، بلکہ کائنات کا افضل ترین معاشرہ۔

 ہمارے قانون میں مجرم کے لیے سزا  رکھی گئی ہے۔ یہی عدل کا تقاضا ہے، لیکن مذہب نے گنہگار کے لیے استغفار کا موڑ رکھا ہوا ہے۔ کوئی خوش نصیب چاہے تو توبہ کر کے واپس لوٹ سکتا ہے۔ یہی ہے فضل کا اظہار، رحمت کی دلیل اور اِنسان کی خوش نصیبی کے اِمکانات۔ ہر خطرہ خطرناک نہیں ہوتا۔ ہر سانپ ڈستا  نہیں ہے۔ خطرات کے باوجود زندگی کو امن وا مان سے چلانے والے نے فضل اور رحم کے لنگر جاری رکھے ہیں۔اپنی نیک اعمالیوں پر ناز نہیں کرنا چاہیے۔ اُس سے عدل کی بجائے فضل مانگتے رہنا چاہیے، کیونکہ وہ بقول میاں محمدبخشؒ:

؎ عدل کرے تے تھر تھر کنبن اُچیاں شاناں والے
فضل کرے تے بخشے جاون میں جئے منہ کالے

یعنی اگر اللہ عدل کرے تو بڑے بڑے جہاندار اور جہانگیر لوگ اُس کے آگے کانپتے رہیں گے، اور وہ فضل کرے تو شاعر جیسا   بد اعمال بھی بخشش سے مالا مال کر دیا جائے گا۔

عدل کرنا چاہیے، فضل ہونا چاہیے۔ غصّہ ختم ہونا چاہیے۔ جرم کی معافی ہونی چاہیے اور اگر ممکن ہو تو لوگوں کے ساتھ احسان ہونا چاہیے۔ ہمارا سارا سلوک لوگوں کے ساتھ ہی تو ہے — نیکی بدی سب لوگوں کے ساتھ، گناہ ثواب لوگوں کے ساتھ۔ لوگوں کے ساتھ ہمارا سلوک ہی اللہ سے سلوک ہے۔ یہاں عدل کرو، وہاں عدل مل جائے گا اور یہاں فضل کروگے تو وہاں فضل ملے گا۔ بس  رحم کرنا ہی  رحم حاصل کرنا ہے۔ رحم کر کے رحم حاصل کر لینا چاہیے۔ عد ل فضل کے تابع ہونا چاہیے۔ اِس میں سیخ  پا ہونے کی کوئی بات نہیں۔

Pages: 1 2 3